صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سے چینی تجارتی وفد کی ملاقات ، تجارتی تعلقات میں اضافے پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سے چینی تجارتی وفد کی ملاقات ، تجارتی تعلقات میں اضافے پر گفتگو
اسلام آباد ()صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سے چینی تجارتی وفد نے ملاقات کی جس میں تجارتی تعلقات میں اضافے پر گفتگو کی گئی ۔وفد کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹرسی سی پی آئی ٹی زی جیانگ نے کی ،ملاقات میں بزنس کمیونٹی کی نمایاں شخصیات بھی شریک ہوئیں، صدر ایف پی سی سی آئی نے پاکستان اور چائنہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو دونوں ممالک کیلئے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے سی پیک کو پاکستان کی انڈسٹری ،انفراسٹرکچر،ٹیکنالوجی کوآپریشن کیلئے اہم قرار دیا۔ملاقات میں صدر ایف پی سی سی آئی نے سی پیک کے فیز ٹو میں دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع ترین امکانات سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صدر ایف پی سی سی آئی تجارتی تعلقات
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔