سرویکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم 15 ستمبر سے شروع ہوگی، ڈاکٹر راشدہ بتول
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ بتول نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ سرویکل کینسر وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کا آغاز 15 ستمبر سے کیا جا رہا ہے جو 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔
ڈاکٹر راشدہ بتول کے مطابق یہ مخصوص وائرس صرف خواتین میں پایا جاتا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے اب باقاعدہ ویکسین لگائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ویکسین عام طور پر مارکیٹ میں 4 ہزار سے 8 ہزار روپے تک دستیاب ہے لیکن حکومت اس مہم میں یہ سہولت بالکل مفت فراہم کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کینسر کے مریض نے 8 ماہ کی حاملہ گرل فرینڈ کو قتل کردیا
انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن مہم کا آغاز بنیادی طور پر اسکولوں سے کیا جائے گا جہاں 9 سے 14 سال عمر کی بچیوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ مہم اسلام آباد، سندھ اور آزاد کشمیر سے شروع ہوگی۔
ڈاکٹر راشدہ نے مزید بتایا کہ اب تک ایک لاکھ 15 ہزار بچیوں کا ڈیٹا موصول ہو چکا ہے اور اس کے مطابق ویکسینیشن پلان مرتب کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ کی ویکسین تیار، کیا اس کینسر کی شرح میں کمی ممکن ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ وائرس سکن ٹو سکن کانٹیکٹ، جنسی تعلقات اور بلڈ ٹرانسمیشن کے ذریعے پھیل سکتا ہے، اس لیے عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر راشدہ بتول نے زور دیا کہ میڈیا اس اہم مہم کی تشہیر میں مثبت کردار ادا کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچیوں کو اس جان لیوا مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر راشدہ بتول رحم کا کینسر سرویکل کینسر ویکسینیشن مہم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر راشدہ بتول رحم کا کینسر ویکسینیشن مہم ڈاکٹر راشدہ بتول ویکسینیشن مہم سے بچاؤ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔