ایف آئی اے کا بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 17 مقدمات درج، 13 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بحریہ ٹاؤن سے منسلک مبینہ حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ نیٹ ورک کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ اب تک 17 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 13 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اہم ریکارڈ قبضے میں
ایف آئی اے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، ایف آئی اے اور نیب نے بحریہ ٹاؤن کے دفاتر پر چھاپے مارے، جن میں انتہائی اہم ریکارڈ قبضے میں لیا گیا۔ اس ریکارڈ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
حوالہ ہنڈی نیٹ ورکس ختم
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ شواہد پر مبنی انٹیلی جنس اور کارروائیوں کے نتیجے میں 2 بڑے حوالہ ہنڈی نیٹ ورکس کو ختم کردیا گیا۔ ان چھاپوں کے دوران 200 سے زائد فائلیں برآمد ہوئیں جن میں غیر قانونی مالی لین دین اور غیر علانیہ دولت کے ثبوت شامل ہیں۔
اربوں کے اثاثے ضبط
تحقیقات کے دوران کرپشن سے حاصل اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کی نشاندہی ہوئی، جنہیں ضبط کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے سینئر عملے کی گرفتاری اور تفتیش سے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کا مکمل نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔
پس منظر
بحریہ ٹاؤن پاکستان کے سب سے بڑے نجی ہاؤسنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے قبل بھی ادارے مختلف مالی بے ضابطگیوں اور لینڈ کیسز کے باعث خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بحریہ ٹاؤن حوالہ ہنڈی ایف آئی اے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔