پنجاب بھر میں ایک لاکھ 50 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل، این ڈی ایم اے
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
دریائے واوی اور ستلج میں طغیانی کے خدشے کے باعث وہاں کے مقامی لوگوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب میں سیلابی صورتحال کے خدشے کے باعث اب تک تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون بارشوں کا اگلا اسپیل کب آئے گا؟ این ڈی ایم اے نے بتادیا
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید مون سون بارشوں، برف پگھلنے اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث بڑے پیمانے پر انخلا جاری ہے۔ ادارے کے مطابق یہ انخلا ابتدائی وارننگز اور پانی کی سطح میں اضافے کے خدشات کے بعد کیا گیا۔
پنجاب پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے ستلج میں پانی کے اضافے کے بعد بڑے پیمانے پر انخلا کی کارروائیاں شروع کیں۔ رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تعینات کی گئیں اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تاکہ انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
این ڈی ایم اے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق انخلا میں 89 ہزار 868 افراد بہاولنگر سے، 14 ہزار 140 قصور سے، 2 ہزار 63 اوکاڑہ سے، 873 پاکپتن سے، 361 بہاولپور سے اور 165 وہاڑی سے شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ابتدائی وارننگز کے بعد تقریباً 40 ہزار افراد خود ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کی دریائے ستلج کے کنارے آباد لوگوں کو انخلا کی ہدایت
این ڈی ایم اے نے تمام اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو چوکس رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے شہریوں کو سیلابی علاقوں سے دور رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح ایک لاکھ 95 ہزار کیوسک تک جا پہنچی ہے اور انتہائی بلند سطح کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دریاؤں کے اطراف اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کے انخلا کا حکم دیا تھا، جب کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژن میں شدید بارشوں اور شہری و دریائی سیلاب کے خدشات کی پیشگوئی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے نے سیلاب سے تباہ کاریوں اور اموات کے اعدادوشمار جاری کردیے
ادھر محکمہ موسمیات نے دریائے چناب اور دریائے راوی میں بھی سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے اور کہا ہے کہ مشرقی دریاؤں پر بارشوں کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق بھارت کی جانب سے جاری کیے گئے فلڈ الرٹ کے بعد ہفتے سے اب تک 24 ہزار سے زائد افراد دریائے سندھ، چناب، راوی اور ستلج کے نشیبی علاقوں سے منتقل کیے جا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news این ڈی ایم اے پنجاب سیلاب نکل مقانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے سیلاب نکل مقانی ڈی ایم اے کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔