بھارت کی آبی جارحیت، دریائے ستلج اور راوی میں اونچے درجے کا سیلاب، ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
پنجاب میں مون سون بارشوں کے آٹھویں اسپیل کے دوران دریائے ستلج اور دریائے راوی میں خطرناک حد تک پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے، گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ستلج جبکہ جسڑ پر راوی میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ اور نشیبی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی فیکٹ شیٹ کے مطابق ستلج ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 90 ہزار کیوسک اور شاہدرہ پر 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور سیلابی سطح درمیانے درجے سے اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہے۔
پانی کا نکاس ایک لاکھ 5 ہزار 380 کیوسک تک پہنچ گیا، دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے تاہم تربیلا اور تونسہ میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں نارووال میں سب سے زیادہ 103 ملی میٹر بارش ہوئی، قصور میں 96، لاہور میں 38، گجرات میں 16، گجرانوالہ میں 13 اور مری میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارشوں کا سلسلہ 27 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، خصوصاً مری، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔
ڈیموں کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی 100 فیصد گنجائش تک جبکہ منگلا ڈیم 76 فیصد تک بھر چکا ہے۔ بھارتی ڈیمز میں بھاکڑا 80، پونگ 87 اور تھین ڈیم 85 فیصد تک بھرنے کی اطلاعات ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے، ریسکیو و ریلیف اداروں کو فیلڈ میں موجود رہنے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو ہرگز برساتی نالوں، نشیبی علاقوں اور دریاؤں میں جانے نہ دیا جائے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں بارشوں کے باعث کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، ریونیو، سول ڈیفنس اور دیگر ادارے ہنگامی بنیادوں پر الرٹ کر دیے گئے ہیں۔ فلڈ وارننگ جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج سے ملحقہ دیہات سے فوری انخلاء کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کو ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت کی قیمت عام پاکستانی شہریوں کو ادا نہ کرنی پڑے، اس لیے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے خدشے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں نقل مکانی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں، جب کہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو کر ریسکیو اداروں سے مکمل تعاون کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ درجے کا سیلاب پی ڈی ایم اے اونچے درجے راوی میں کی ہدایت کے مطابق
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم