بانی پی ٹی آئی کی سیاسی فرعونیت کی وجہ سے معاملات حل نہیں ہو رہے، طارق فضل
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاسی فرعونیت کی وجہ سے معاملات حل نہیں ہو رہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جماعتوں سے لڑنے کے بجائے عسکری اداروں سے لڑنا شروع کیا ، یہ غلطی کی، تاہم مفاہمت کا ماحول ہر وقت موجود ہوتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی سیاسی فرعونیت کی وجہ سے معاملات حل نہیں ہو رہے۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 24،26 نومبر ایسے مواقع تھے جب مذاکرات ہوسکتے تھے، تحریک انصاف آج بھی سیاسی انداز میں فیصلے کرے گی تو اسپیس ہوگی۔
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ پی ٹی آئی کے باہر بیٹھے لوگ اور قیادت سوشل میڈیا کے ذریعے یرغمال بنی ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی خود بھی چاہتے تھے کہ بات چیت ہو لیکن معاملات بشریٰ بی بی کی وجہ سےخراب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے ہوں گے تو اتحادیوں اور اپوزیشن سے مشاورت ہوگی اور صوبے بنانے کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، ایڈمنسٹریٹو بنیاد پر صوبے بننے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
سربراہ پلڈاٹ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ کافی وقت صورتحال ایسی تھی کہ پی ٹی آئی فائدہ اُٹھا سکتی تھی، تحریک انصاف کو لوگوں نے مذاکرات کا بھی مشورہ دیا، مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔
احمد بلال کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجا بہت قابل آدمی ہیں ، انہوں نے اختیار استعمال کیا تو استعفے تک بات آگئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے مطالبات دوبارہ جاگیں گے، بہاولپور صوبے کیلئے بھی مطالبات ہوں گے، ایڈمنسٹریٹو بنیاد پر صوبے بنانے سے بہتر ہے مقامی حکومت کو بہتر کیا جائے، چاروں صوبوں کے اسٹرکچر کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔
ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں بگاڑ کے حق میں کم اور مفاہمت کے حق میں زیادہ لوگ ہیں، مستقبل قریب میں مفاہمت اور مکالمہ ہوتا نظر نہیں آرہا، حکومت نے فی الوقت نظام اسی طرح چلانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کی وکالت کے فرائض انجام دیتا تو اپنے کلائنٹس کو چھپنے کا نہیں کہتا، پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اتنا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 24اور25 نومبر کو مذاکرات ہو رہے تھے، کہا گیا سنگجانی پر پڑاؤ ڈال دیا جائے تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا راستہ نکال لیں گے، یہ اچھی پیشکش تھی اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنےاعتماد کے 3،4 لوگوں کو اختیار دینا چاہیے، آج کمیٹیوں سے استعفے دینے کا کہا گیا ، اس سوچ کی حمایت نہیں کرتا، بانی پی ٹی آئی سے بدنیتی پر مبنی فیصلے کرائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ( کے پی ) کو 3 حصوں میں بانٹ دینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کی انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ کہ پی ٹی ا ئی کی وجہ سے نہیں ہو ہو رہے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔