دریائے راوی میں بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کا بھاؤ مزید تیز،اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی میں آئندہ 48 گھنٹوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے جس کے تحت وارننگ جاری کردی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی میں پانی کا ریلہ 2 لاکھ 10 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے اور اس کی سطح مسلسل بلند جبکہ بھاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے جسر، شاہدرہ اور بلوکی کیلئے سیلابی وارننگ جاری کر دی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ دریائے راوی کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ضلعی انتظامیہ کی نشیبی علاقوں کی آبادی کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریائے راوی کے قریب جانے سے مکمل گریز کریں جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں۔
الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپوں اور میڈیکل کیمپوں کے قیام کا عمل شروع کر دیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور آفس میں قائم کنٹرول روم میں مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔
انتظامیہ نے سیلابی پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کیلئے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا کام تیز کردیا جبکہ مکینوں کو مال مویشیوں کو فوری طور پر اونچے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اس کے علاوہ تمام متعلقہ محکموں کو مشینری اور عملے کی 24 گھنٹے موجودگی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی سی آفس میں قائم کنٹروم مکمل فعل ہے، شہری مصدقہ معلومات کیلئے 03070002345 پر رابطہ کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول روم یا ریسکیو 1122 پر فوری اطلاع دیں۔
دوسری جانب نارروال میں نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث دریا کا دو فٹ پانی ریلوے ٹریک سے گزرنے لگا جس کے باعث ٹرین کی آمد و رفت کو معطل کردیا گیا ہے۔
ریلوے ٹریفک انسپکٹر طارق خان نے بتایا کہ 125 لاثانی ایکسپریس، علامہ اقبال ایکسپریس کو نارووال اسٹیشن روک لیا گیا ہے، سیالکوٹ سے نارووال آنے والی سیالکوٹ ایکسپریس کو پسرور روک دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دریائے راوی دیا گیا گیا ہے
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان