گریٹر اسرائیلی منصوبہ ناقابل قبول
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے کہا ہے کہ گریٹر اسرائیل منصوبہ ناقابل قبول اور امن کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان اس منصوبے کو مسترد کرتا ہے، غزہ میں انسانی امداد کی فوری رسائی یقینی بنائی جائے۔
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ او آئی سی کے ہنگامی اجلاس پر ترکیہ، ایران اور فلسطین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے خون بہایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے کوشش کرے۔ جبری بے دخلی اور غیر قانونی قبضے کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔
دنیا اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں بین الاقوامی اصول، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کو طاقتور قوموں کی خود غرض پالیسیوں اور سامراجی مفادات کے تحت پامال کیا جا رہا ہے۔
فلسطین اور خاص طور پر غزہ، اس وقت ظلم، استحصال اور تباہی کی ایسی درد ناک تصویر پیش کر رہا ہے جس پر ہر باضمیر انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کا قتل عام اس بات کی گواہی ہے کہ اسرائیل کی نسلی اور مذہبی انتہاپسند پالیسیوں نے ساری حدود پار کر لی ہیں۔ ان حالات میں نائب وزیراعظم پاکستان اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو الفاظ ادا کیے، وہ صرف ایک حکومتی مؤقف نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔
گریٹر اسرائیل کا تصور کوئی نیا نہیں بلکہ صہیونی تحریک کے آغاز سے ہی یہ نظریہ پروان چڑھتا آ رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل دریائے نیل سے دریائے فرات تک کے علاقوں پر قبضے کے خواب دیکھتا ہے۔ اس منصوبے کا مطلب صرف زمینی توسیع نہیں بلکہ پورے خطے کی ثقافتی، مذہبی اور نسلی شناخت کو مٹا دینا ہے۔ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبراً بے دخل کرنا، ان کے گھروں کو مسمار کرنا، ان کے تاریخی اور مذہبی مقامات پر ناجائز قبضہ جمانا، یہ سب گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کرانے کی اپنی ضد پر اڑ گئے ہیں۔ ’’ تعمیر نو ‘‘ کے نام پر غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کرا کر اس پر امریکا کے حوالے کرنے کی ٹرمپ کی تجویز پر پوری دنیا میں حیرت اور برہمی کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ نیبھی اس کی مخالفت کی ہے۔ ٹرمپ کو غزہ میں نسلی بنیادوں پر فلسطینیوں کی دوسرے ملک منتقلی کے خلاف خبردار بھی کیا گیا ہے جب کہ روس، چین، جرمنی، آسٹریلیا، فرانس اور آئرلینڈ نے بھی مخالفت کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی وکالت کی ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر عرب اور مسلم ملکوں نے بھی ٹرمپ کی اس تجویز پر اپنا سخت موقف ظاہرکیا ہے۔ درحقیقت غزہ کی زمین پر صرف اہل غزہ کا حق ہے اور وہ لوگ اس حق سے کبھی دستبردار ہونے والے نہیں۔ اسرائیل کی طرف سے مسلسل شدید بمباری کو دو برس ہونے والے ہیں ، سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا پھر بھی ان کا حوصلہ وہ توڑ نہیں سکے۔ ایک مقام سے دوسرے مقام اور ایک علاقہ سے دوسرے علاقے اور ایک شہر سے دوسرے شہر نقل مکانی کرنا اور نئے سرے سے آباد ہونا نیز ماحول اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا بہت ہی کٹھن اور دشوار گزار مرحلہ ہے۔
یہاں تو معاملہ کسی علاقہ اور شہر کا نہیں، بلکہ ملک کا ہے۔ مسئلہ لاکھوں پناہ گزینوں اور انھیں نئے سرے سے آباد کرنے کا بھی ہے۔ تعمیراتی کام مکمل ہونے میں کافی لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ غزہ کو خالی کرانا ٹرمپ کے لیے ممکن نہیں، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ امریکی صدر مظلوم اور معتوب اہل غزہ کے تئیں نرم گوشہ رکھیں اور انسانیت کو مجروح ہونے سے بچائیں اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔
چند ماہ قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے اپنے تصور کے عزم کا اظہارکر کے پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ دنیا میں یہودیوں کی ایسی نسلیں ہیں، جو یہاں آنے کا خواب دیکھ رہی ہیں، یہ نسلیں ہمارے بعد آئیں گی۔
’عظیم تر اسرائیل‘ کی اصطلاح1967کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل اور اس کے قبضے والے علاقوں مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ، مصر کے جزیرہ نما سینا اور شام کی گولان کی پہاڑیوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جا تی ہے۔ ’گریٹر اسرائیل‘ کا تصور لیکوڈ پارٹی کی سیاسی روایت کا بنیادی اصول ہے، جس کی جڑیں صہیونیت میں پائی جاتی ہیں۔ غیر قانونی بستیوں میں توسیع اس نظریہ کی عکاسی کرتی ہے۔ غزہ پٹی کے75فیصد حصے پر قابض اسرائیل فلسطینیوں کو جنوب میں منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
تجزیہ کار غزہ میں نسل کشی کو ایک منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بہر حال دنیاکے لیے اب یہ خطرے کی گھنٹی ہے، اس لیے کہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بہت پرانا ہے اور اسرائیل اس پر کافی عرصے سے عمل پیرا ہے، تاہم اب ان ممالک کو بیدار ہو جانا چاہیے جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرنے جا رہے تھے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے بتا چکا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی سطح 1967 کے بعد سے اب تک کی ریکارڈ سطح تک بڑھ چکی ہے۔
اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مغربی اردن کے علاقے میں ’’ آئرن وال‘‘ نامی فوجی آپریشن کے اثرات پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے اس صورتحال کو ممکنہ ’’نسلی تطہیر‘‘ اور ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دے دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں یہودی آباد کاروں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کا نیا سلسلہ تقریباً 60 سال قبل اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد سے اب تک کی اپنی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں شہری آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کرنا غیر قانونی منتقلی کے مترادف ہے۔
پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا تھا اور آج تک ہر پاکستانی حکومت نے اسی پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔ یہ مؤقف اصولی بھی ہے اور تاریخی بھی۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور دنیا بھر میں ان کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یہ مؤقف محض سفارتی روایات کا حصہ نہیں بلکہ ہمارے ضمیر کا تقاضا ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اسرائیل کے حق دفاع کی تکرار کرتی ہیں مگر فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
غزہ میں بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں کا قتل عام ہو رہا ہے، مگر کوئی بین الاقوامی ادارہ اسرائیل کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی دہرا معیار آج کے عالمی نظام کو بے نقاب کرتا ہے۔ انصاف، آزادی اور انسانی حقوق کی باتیں محض کمزور اقوام کو دبا کر رکھنے کے ہتھیار بن چکی ہیں، جب کہ طاقتور ریاستوں کو ہر ظلم کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس وقت مسلم دنیا کو اپنے ذاتی اختلافات، علاقائی کشیدگیوں اور سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر فلسطین کے مسئلے پر متحد ہونا ہوگا۔
عالمی اور پاکستانی میڈیا کو بھی اس جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج میڈیا محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ فلسطین کے مظلوم عوام کی داستانیں، ان کے زخم، ان کے درد، دنیا کے سامنے لانا عالمی میڈیا کا فرض ہے۔ صہیونی پروپیگنڈے کا مقابلہ صرف سچائی سے کیا جا سکتا ہے۔
تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ایک انتہا پسند، نسل پرست اور سامراجی خواب ہے، جو صرف فلسطینیوں کے لیے نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور اقوام عالم کے لیے خطرہ ہے، اگر آج ہم نے اسے مسترد نہ کیا تو کل اس کی لپیٹ میں صرف فلسطین نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی آ سکتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ دنیا فیصلہ کرے کہ وہ ظلم کے ساتھ کھڑی ہے یا مظلوم کے ساتھ۔ اگر آج فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا گیا تو کل کو یہی ظلم دنیا کے دیگر خطوں تک پھیل جائے گا۔ یہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ اسرائیل کی مسلسل جارحیت، بین الاقوامی قوانین کی پامالی اور عالمی برادری کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا ایک خطرناک سمت کی جانب بڑھ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گریٹر اسرائیل فلسطینیوں کے اقوام متحدہ اسرائیل کے اسرائیل کی کرتے ہوئے فلسطین کے نہیں بلکہ کہ دنیا کے ساتھ کے لیے ہے اور چکا ہے رہا ہے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں