محکمہ وائلڈ لائف نے نایاب طوطوں کی کھیپ بازیاب کرلی، 14 ملزمان کے چالان
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
لاہور:
محکمہ وائلڈ لائف نے مختلف کارروائیوں میں درجنوں طوطے اور تیتر بازیاب کرا لیے اور متعدد ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔
ترجمان وائلڈ لائف کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 114 طوطے، 2 کالے تیتر اور بٹیر کی نیٹنگ کے 21 ہنٹنگ گیئرز برآمد ہوئے، 14 ملزمان کا چالان کیا گیا۔
بہاولنگر میں غیرقانونی بریڈنگ فارم پر چھاپے کے دوران 56 راء طوطے اور 46 گانیدار طوطے تحویل میں لیے گئے۔ فیصل آباد برڈ شاپ پر کارروائی کے دوران 12 جنگلی طوطے اور 2 کالے تیتر برآمد ہوئے جبکہ 2 افراد کے خلاف چالان کیا گیا۔
فیصل آباد میں غیرقانونی شکار پر ایک شخص کو گرفتار کر کے ایئرگن، چھری، غلیل اور ذبح شدہ 4 پرندے برآمد کیے گئے۔ جھنگ سے بٹیر کا ایک نیٹنگ گیئر، لیہ، بھکر، بہاولپور اور اٹک سے بٹیر کے 9 نیٹنگ گیئرز جبکہ میانوالی سے بٹیر کے 3 ہنٹنگ گیئرز برآمد کر کے 3 شکاری گرفتار کیے گئے۔ اسی ضلع میں فاختہ کا ایک شکاری بھی گرفتار ہوا جس کے قبضے سے 4 ذبح شدہ فاختائیں برآمد ہوئیں۔
ساہیوال میں بٹیر کا نیٹنگ گیئر برآمد ہوا جبکہ ڈیرہ غازی خان میں غیرقانونی شکار پر 6 شکاریوں کا چالان کر کے ایک لاکھ 92 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ رحیم یار خان میں بٹیر کے 3 غیرقانونی ہنٹنگ گیئرز برآمد ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کالج میں دیمک زدہ نقدی اور ’خفیہ کمرہ‘ برآمد، سیاسی پارٹیوں میں کشیدگی
۔
۔
کولکاتا کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں صفائی مہم کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں دیمک زدہ ایک لاکھ روپے سے زائد نقدی برآمد ہوئی، جبکہ بعد ازاں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت ہوا جس نے ادارے کے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
دیمک زدہ رقم زیادہ تر 100 اور 500 روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھی، جو دو پرانے سفری سوٹ کیسز میں ایک الماری کے اندر رکھی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہ نوٹ شدید طور پر خراب اور دیمک زدہ حالت میں پائے گئے۔
یہ صفائی مہم مون سون سے قبل تعلیمی ادارے کی صفائی اور بہتری کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کی ہدایت شہری انتظامیہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ دورانِ کارروائی جب کمروں کی جانچ پڑتال کی گئی تو یہ نقدی برآمد ہوئی۔
ایک اہلکار کے مطابق، ’زیادہ تر نوٹ خراب اور گندے ہو چکے ہیں۔ ان کی مکمل فہرست (انوینٹری) تیار کی جا رہی ہے اور ویریفیکیشن کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔‘
نقدی کے ذریعے اور اسے رکھنے والے افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے، تاہم اس واقعے نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی سجل گھوش نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے بدعنوانی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کالج یونین روم میں اتنی بڑی رقم کسی کی معلومات کے بغیر کیسے موجود رہ سکتی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر کالج انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واقعے کے اگلے روز حکام نے سرندرناتھ کالج میں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت کیا، جسے مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے ایک رہنما سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق جب وہ یونیورسٹی کی چھت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں ایک مکمل طور پر تیار شدہ کمرہ ملا، جس میں ایئر کنڈیشنر، آرام دہ بستر، دیوار پر لگی گھڑی اور آرائشی پینٹنگز موجود تھیں۔
اس کے ساتھ ہی ایک جدید اور مکمل طور پر تیار شدہ واش روم بھی برآمد ہوا۔ مزید برآں، حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی کمرے سے ایک آتشیں اسلحہ بھی ملا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ کمرہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا اور یہاں کون کون آتا جاتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا دیمک زدہ کرنسی نوٹ کولکتہ کالج