نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 4 فون کالز مسترد کردیے، جرمن اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
جرمن اخبار فرینکفرٹر الگمائنے سائٹنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی 4 فون کالز کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔
جاپانی اخبار نکئی ایشیا نے بھی ایسی ہی اطلاعات دی ہیں کہ مودی ٹرمپ کی کالز سے گریز کر رہے ہیں، جرمن اخبار کا کہنا ہے کہ مودی کے ٹرمپ سے بات نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے اقدامات سے سخت نالاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مودی ٹرمپ ملاقات، وائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں جب صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کو دوگنا کرتے ہوئے 50 فیصد تک بڑھا دیا جو کہ برازیل کے بعد کسی بھی ملک پر عائد سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی خام تیل کی بھارتی خریداری پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں اس وقت سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جب سے صدر ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑائی ان کی ثالثی کی وجہ سے رکی۔ بھارت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت روسی تیل انڈین پیداوار کہہ کر باقی ملکوں کو بیچتا ہے، جنگ بندی کا کریڈٹ کیوں نہیں دیا؟ ٹرمپ مودی حکومت پر غصہ
گزشتہ 2 دہائیوں میں بھارت اور امریکا چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کے لیے قریب آئے تھے لیکن ٹرمپ کے سخت تجارتی اقدامات نے اس شراکت داری کو کمزور کر دیا ہے، جسے بیجنگ اور ماسکو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
فریزر کا کہنا تھا کہ بھارت نے کبھی بھی امریکا کے ساتھ مل کر چین کے خلاف صف بندی کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ نئی دہلی اور بیجنگ عالمی اداروں میں اثرورسوخ بڑھانے کے لیے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق چین کی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی بھارتی صنعت کو سہارا دے سکتی ہے، جبکہ بھارت بیجنگ کے عالمی اقتصادی اور سیاسی عزائم کو تقویت پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت پر 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف آج سے نافذ، سب سے زیادہ کون سے شعبے متاثر ہوں گے اور فائدہ کس ملک کو ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسی صرف امریکی ٹیرف کا ردعمل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک رخ ہے۔ امریکا کے پیچھے ہٹنے کے بعد بھارت اور چین عالمی اثرورسوخ اور صنعتی ترقی میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔
وزیرِاعظم مودی رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ مودی کا پہلا دورہ چین ہوگا، جسے بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں نرمی لانے اور واشنگٹن و بیجنگ کے بدلتے تعلقات پر نظر رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا انڈیا ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انڈیا ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور کہ بھارت
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز