Express News:
2026-07-24@13:57:10 GMT

بانی اور سیاسی کمیٹی

اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT

تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی تحریک انصاف کی ہدایت یا سرزنش پر اپنا ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ تبدیل کر دیا ہے۔ بانی تحریک انصاف نے پہلے ہی ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ لیکن تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی یہ سمجھتی تھی کہ پارٹی کو میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے اور پارٹی کو ضمنی انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ نو مئی کے مقدمات میں سزاؤں کے بعد جو ارکان نا اہل ہوئے تھے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی بائیکاٹ کے حق میں نہیں تھے اور اپنے اہل خانہ کو ٹکٹ دلوا کر ضمنی انتخابات میںحصہ لینا چاہتے تھے۔

کوئی بھی حلقہ خالی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اسی لیے سیاسی کمیٹی نے بانی کی ہدایات کے برعکس فیصلہ کیا۔ اور ہم نے لکھا کہ سیاسی کمیٹی نے بانی کے احکامات ماننے سے انکار کیا ہے اور یہ عمران خان مائنس کی طرف ایک اور قدم ہے۔ تا ہم توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے موقع پر کافی ماہ بعد بانی تحریک انصاف کو اپنی بہنوں اور سیاسی لوگوں سے ملاقات کا موقع دیا گیا۔ ورنہ کئی ماہ سے ملا قاتیں بند تھیں۔

اس ملاقات پر سب نے بانی کو بتایا کہ سیاسی کمیٹی نے آپ کی ہدایات کے برعکس ضمنی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ آپ نے بائیکاٹ کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی کمیٹی کہتی ہے کہ ہم بانی کے حکم کو نہیں مانتے، آپ مائنس ہو گئے ہیں۔ آپ کے فیصلوں کو نہ ماننے کی روایت شروع ہو گئی ہے۔ یقیناً بانی کو یہ سب اچھا نہیں لگا ہوگا اور انھوں نے کہا ہوگا وہی ہوگا جو میں کہوں گا ۔ یہ میری پارٹی ہے کسی کی نہیں۔

انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ پارٹی کو محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف بنانے پر بھی تحفظات ہیں۔ پارٹی چاہتی ہے کہ تحریک انصاف میں سے کسی کو قائد حزب اختلاف بنایا جائے۔ لیکن بانی کو سیاسی کمیٹی اور پارٹی کے لوگوں کی یہ بات بھی پسند نہیں آئی ہوگی ۔ ویسے بھی جب کوئی لیڈر اپنی پارٹی میں خود کو مطلق العنان سربراہ سمجھتا ہو تو وہ اختلاف کرنے والوں کے بارے میں یہی سوچتا ہے کہ ان کی اتنی جرات کہ میرے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کریں۔

ان کی اتنی اوقات‘ انھیں بتایا جائے کہ میں ہی پارٹی ہوں۔ میری بات ہی پارٹی پالیسی ہے۔ انھیں بتایا جائے کہ اگر ان میں سے کوئی اس قابل ہوتا تو چاہیے ہی کیا تھا۔ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے بھی حکم ہی صادر کیا ہے کہ محمود خان اچکزئی ہی قائد حزب اختلا ف ہونگے۔یہ سب ان کے ماتحت ہوں گے۔

بانی اس وقت تک مجھے لگتا ہے کہ کافی غصہ میں ہیں۔ اوپر سے علیمہ خان نے انھیں بتایا ہو گا کہ میں نے تو رات کو ہی سب کو متنبہ کر دیا تھا کہ سیاسی کمیٹی کو یہ اختیار نہیں کہ بانی کے فیصلوں کے برعکس فیصلہ کرے‘ یہ مینڈیٹ سے تجاوز ہے۔شاید اسی لیے سینیٹ میں بھی اعظم سواتی کی نامزدگی واپس لی جائے گی اور وہاں اب علامہ راجہ ناصر قائد حزب اختلاف ہونگے۔

بات یہی ختم نہیں ہوئی۔ پارلیمان کی کمیٹیوں کے چیئرمین اور ممبران بھی مراعات لے رہے ہیں۔ تمام چیئرمین سرکاری گاڑیاں اور مراعات استعمال کر رہے ہیں۔ ایوان کی کمیٹیوں میں فکس میچ کھیل رہے ہیں۔ کمیٹیوں کے اجلاس کے نام پر روزانہ حکومت کے نمایندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر خوش گپیاں لگائی جاتی ہیں، اکٹھے چائے پیتے ہیں، کھانے چلتے ہیں۔

 بانی نے تمام کمیٹیوں سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ان سب کے مزے بند کر دیے ہیں۔ اس طرح بانی تحریک انصاف نے انھیں مائنس کرنے کے گریٹ پلان کو ناکام بنا دیا اور اپنی طاقت اور رٹ کو منوا لیا۔ اس سب کے بعد رات گئے سیاسی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس ہوا ہے اور کمیٹی نے اپنے پرانے فیصلے کو تبدیل کر دیا ہے ۔

میں نے فیصلہ بدلنے کا اعلان بار بار پڑھا ہے کہیں ندامت اور شرمندگی کا ذکر نہیں ہے۔ اب تحریک انصاف نا اہل ہونے والے ارکان کی سیٹوں پر ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے کس کو فائدہ ہوگا۔ کیا تحریک انصاف کو اس بائیکاٹ سے کوئی فائدہ ہوگا۔ میں نہیں سمجھتا تحریک انصاف کو ان چند ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ سے کوئی فائدہ ہوگا۔ میری رائے میں اس سے حکومت کو فائدہ ہوگا۔حکومت کو ضمنی انتخابات میں واک اوور مل گیا۔ ضمنی انتخاب میں جیت آسان ہوگئی۔ کوئی طاقت اور زور نہیں لگانا پڑے گا۔ جیت یقینی ہو گئی۔

اسی طرح کمیٹیوں سے مستعفیٰ ہونے سے بھی فی الحال نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہمارا پارلیمانی نظام تحریک انصاف کے استعفوں کی سیاست کا عادی ہو چکا ہے۔ 2014 میں بھی استعفیٰ دیے تھے۔ پھر 2022میں بھی استعفیٰ دیے تھے۔ اس لیے یہ استعفیٰ کوئی نئی بات نہیں کہ سب گھبرا جائیں۔ ان استعفوں کی سیاست کی سب کو عادت سے ہو گئی ہوئی ہے۔ سوال کے پی حکومت کا ہے۔ کیا وہ حکومت چھوڑیں گے۔ مجھے نہیں لگتا۔ سب نے وہاں پناہ لی ہوئی ہے۔ وہ حکومت گئی تو پاکستان میں کوئی محفوط جگہ ہی نہیں رہے گی۔

یہی کپتان کا امتحان ہو گا۔ اگر وہ کے پی حکومت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو کھیل دلچسپ ہو گا۔ ورنہ کوئی خطرہ والی بات نہیں۔ پورے کے پی میں ضمنی انتخاب ایک مسئلہ ہوگا۔ ورنہ یہ ایک ایک دو دو ضمنی انتخاب کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر نا اہل ہونے والے ارکان کی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہے تو کیا سینیٹ میں بھی کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ عجیب بات ہوگی کہ آپ قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کریں اور سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لیں۔

آپ پنجاب میں بائیکاٹ کریں کے پی میں ضمنی انتخابات میں حصہ لیں۔ کیونکہ خبر یہ بھی آرہی ہے کہ کے پی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے گا جب کہ پنجاب میں نہیں لیا جائے گا۔ یہ منطق صرف بانی ہی سمجھ سکتے ہیں۔ نہ یہ منطق سیاسی کمیٹی کی سمجھ میں آئی ہے اور نہ ہی عام آدمی کی سمجھ میں آرہی ہے۔ لیکن بانی تو بانی ہے۔ اس کی بات حرف آخر ہے۔ اس کی منطق ہونا ضروری نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ضمنی انتخابات میں حصہ بانی تحریک انصاف سیاسی کمیٹی نے فائدہ ہوگا ہونے والے کا اعلان میں بھی رہے ہیں ا ہے کہ کر دیا

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف