ہمارے شہداء ہمارا فخر، کیپٹن تیمور حسن کی قربانی قوم کا سرمایہ افتخار
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
وطن عزیز کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو قوم سلام پیش کرتی ہے۔ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے کیپٹن تیمور حسن کی قربانی قوم کیلئے باعثِ فخر ہے۔
کیپٹن تیمور حسن شہید کے والد، ریٹائرڈ بریگیڈیئر حسن عباس نے بیٹے کی شہادت پر غیر متزلزل حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے 10 بچے بھی ہوتے تو سب کو فوج میں بھیجتا۔زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اور جو دھڑکن جہاں بند ہونا لکھی ہے، وہ ویسے ہی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے بچوں کو فوج میں بھیجنے سے ڈرنا نہیں چاہیے، شہادت جس کو لکھی ہے، وہی شہید ہو گا۔انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ ان تمام والدین کے لیے دعا کریں جن کے نوجوان بیٹے مادرِ وطن پر قربان ہو چکے ہیں۔طیب بھائی کا جوان بیٹا بھی شہید ہوا، اللہ تعالیٰ اُنہیں اور دیگر والدین کو حوصلہ دے۔
بریگیڈیئر حسن عباس کے حوصلے اور ایثار نے قوم کو ایک بار پھر یہ یقین دلایا ہے کہ وطن کی حفاظت کرنے والی فوج میں ایسے خاندان موجود ہیں جنہوں نے اپنی نسلیں قربان کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔کیپٹن تیمور حسن کی شہادت وطن کی دفاعی تاریخ کی ایک اور تابناک مثال ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیپٹن تیمور حسن
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔