شادی سے 2 روز قبل شہید ہونے والا چکوال کا سپوت، کیپٹن راجہ تیمور
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال کا جوان کیپٹن راجہ تیمور حسن، جو زندگی کے ایک انمول ترین موقعے کی آمد کے دن گن رہا تھا، وطن کی مٹی پر جان نچھاور کر کے شہیدوں کی صف میں شامل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کی 54ویں برسی پر مسلح افواج کا شاندار خراجِ عقیدت
چکوال کے گاؤں دروگی راجگان کے بہادر سپوت کی مہندی کی تقریب صرف ایک روز بعد ہونی تھی جس کے اگلے روز نکاح اور پھر اس کے اگلے روز ولیمہ طے تھا لیکن ان کے استقبال کی تیاریاں تو آسمانوں پر طے کردی گئی تھیں۔
ایک طرف گھر میں شادی کی تیاریاں تھیں، مہمانوں کی آمد، دعاؤں کی گونج اور دلہن کے ہاتھوں پر تیمور کے نام کی مہندی سج رہی تھی لیکن دوسری طرف سرحد پر کیپٹن راجہ تیمور حسن اپنے وطن کی حفاظت میں سینہ سپر اور شوق شہادت سے سرشار تھے۔ قدرت نے ان کا شوق شہادت پورا کردیا۔
شہید کے ورثا کا کہنا ہے اللہ کو تیمور کی قربانی اور ہمیں سرخرو کرنا منظور تھا۔
مزید پڑھیے: اپر دیر: پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، فتنہ الخوارج کے مقامی کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاک، 2 شہری شہید
کیپٹن راجہ تیمور حسن شہید ہوگئے لیکن وہ قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ شہید کے والد برگیڈیئر حسن عباسں اس وقت پاک فوج میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے دادا بھی آرمی میں کیپٹن تھے۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شادی شہید کیپٹن راجہ تیمور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہید کیپٹن راجہ تیمور کیپٹن راجہ تیمور
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔