سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کی سرگرمیوں کی تازہ ترین صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاور ڈویژن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق، 28 اگست 2025 صبح 8:00 بجے تک ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے نمایاں پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ تمام ڈسکوز کے عملے کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا عمل جاری ہے اور بیشتر فیڈرز بتدریج بحال ہو
رہے ہیں۔
فیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 30 فیڈرز متاثر ہوئے، جن میں چنیوٹ کے 14، جھنگ کے 9، سرگودھا کے 5، میانوالی کا 1 اور ڈی آئی خان کا 1 فیڈر شامل ہے۔ ان تمام فیڈرز کو عارضی طور پر بحال کر دیا گیا ہے اور مکمل بحالی رات 9 بجے سے 12 بجے تک متوقع ہے۔ ایس ایز آپریشن فرسٹ، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی سرکلز کے عملے کی جانب سے بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔
گیپکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 7 گرڈز اور 54 فیڈرز متاثر ہوئے۔ سیالکوٹ میں 3 گرڈز اور 25 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 19 مکمل اور 1 جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ نارووال میں 1 گرڈ اور 20 متاثرہ فیڈرز مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔ وزیرآباد میں 2 گرڈز اور 7 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 3 مکمل اور 1 جزوی طور پر بحال کیا جا چکا ہے۔ حافظ آباد میں 1 گرڈ اور 2 متاثرہ فیڈرز شامل ہیں۔ یوں گیپکو کے مجموعی طور پر 42 فیڈرز مکمل اور 2 جزوی طور پر بحال ہو چکے ہیں جبکہ باقی کی بحالی آج شام اور رات کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
لیسکو کے زیرِ انتظام علاقے میں لاہور کے 1، قصور کے 8 اور اوکاڑہ کے 8 متاثرہ فیڈرز کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ایس ای آپریشنز اور کنسٹرکشن گینگز بحالی کے کام میں مصروف ہیں اور متاثرہ فیڈرز سیلاب کا پانی اترنے کے بعد مکمل طور پر بحال کر دیے جائیں گے۔
میپکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 50 فیڈرز متاثر ہوئے، جن میں پاکپتن کے 10، ساہیوال کا 1، بہاول نگر کے 16، وہاڑی کے 12، بہاولپور کے 2، لودھراں کے 2، خانیوال کا 1، رحیم یار خان کا 1، کوٹ ادو کا 1 اور ملتان کے 4 فیڈرز شامل ہیں۔ متعلقہ عملہ الرٹ پر ہے اور پانی اترتے ہی بحالی کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔
پیسکو کے تحت مجموعی طور پر 12 گرڈز اور 91 فیڈرز متاثر ہوئے۔ سوات میں 3 گرڈز اور 35 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 34 مکمل اور 1 جزوی طور پر بحال ہو چکا ہے۔ بنر میں 1 گرڈ اور 9 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 5 مکمل اور 4 جزوی طور پر بحال کیے جا چکے ہیں۔ شانگلہ میں 1 گرڈ اور 5 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 2 مکمل اور 3 جزوی طور پر بحال ہوئے ہیں۔ صوابی میں 2 گرڈز اور 11 متاثرہ فیڈرز کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی خان میں 5 گرڈز اور 31 فیڈرز متاثر ہوئے، جن میں سے 19 مکمل اور 11 جزوی طور پر بحال کیے جا چکے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر پیسکو کے 71 فیڈرز مکمل اور 19 جزوی طور پر بحال ہو چکے ہیں جبکہ باقی کی بحالی آئندہ 2 سے 7 دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ٹیسکو کے زیرِ انتظام علاقے شمالی وزیرستان میں 2 متاثرہ فیڈرز کو بحال کر دیا گیا ہے ۔
پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ تمام ڈسکوز اور فیلڈ ٹیمیں دن رات بحالی کے کام میں مصروف ہیں اور وزارتِ توانائی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی جلد از جلد مکمل طور پر بحال کر دی جائے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے طور پر بحال کر دیا گیا ہے جزوی طور پر بحال ہو مکمل طور پر بحال متاثرہ فیڈرز میں 1 گرڈ اور علاقوں میں مکمل اور 1 کی بحالی گرڈز اور فیڈرز کو چکے ہیں کے زیر
پڑھیں:
پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
اسلام آباد: پاکستان میں سریے کی قیمت جمعرات 23 جولائی 2026 کو مجموعی طور پر مستحکم رہی، تاہم مختلف برانڈز اور گریڈز کے لحاظ سے معمولی فرق دیکھا گیا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے جاری کردہ تازہ مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں سریے کی قیمت 258 روپے سے 265 روپے فی کلوگرام کے درمیان برقرار ہے۔
تعمیراتی ماہرین کے مطابق رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں سب سے زیادہ گریڈ 40 اور گریڈ 60 سریا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ مضبوطی اور معیار کے لحاظ سے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں سریے کے تازہ ریٹس
سریے کا گریڈ قیمت (روپے فی کلوگرام)
گریڈ 40 260 روپے
گریڈ 60 265 روپے
مارکیٹ ریٹ 258 سے 265 روپے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سریے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، جن میں خام مال کی قیمت، بجلی اور گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور تعمیراتی شعبے کی مجموعی طلب شامل ہیں۔
انہوں نے خریداروں اور بلڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی مقدار میں سریا خریدنے سے قبل مقامی ڈیلرز سے تازہ نرخ ضرور معلوم کریں، کیونکہ مختلف شہروں، برانڈز اور مینوفیکچررز کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔
تعمیراتی صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر خام مال یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو آئندہ دنوں میں پاکستان میں سریے کی قیمت بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔