انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی پاکستان کو پرو ہاکی لیگ میں شامل کرنے کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کو پرو ہاکی لیگ میں شامل کرنے کی تصدیق کردی۔
ایف آئی ایچ کے صدر طیب اکرام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں واپسی پر خوشی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی کا ماضی بہت شاندار اور فتوحات سے بھرا ہوا ہے۔ پرو ہاکی لیگ میں گرین شرٹس کی شمولیت انٹرنیشنل ہاکی کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے پاکستان ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
FIH can confirm that the Pakistan men’s hockey team, nicknamed the Green Shirts, have accepted the invitation to participate in the upcoming 2025-26 season of the #FIHProLeague.
Read the full story below ???? — International Hockey Federation (@FIH_Hockey) August 28, 2025
پروہاکی لیگ کے لیے 25 کروڑ روپے حکومتی گرانٹ کی منظوری ملنے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن حکام بھی بہت خوش ہیں۔
پرو ہاکی لیگ میں پاکستان اپنا پہلا راؤنڈ ارجنٹینا میں کھیل سکتاہے۔ جہاں دسمبر میں ارجنٹائن اور ایک یورپی ٹیم کے ساتھ دو دو میچز متوقع ہیں۔
پرو ہاکی لیگ کا باقاعدہ شیڈول چند ہفتوں میں جاری کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پرو ہاکی لیگ میں
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے