بیٹے کی فائرنگ سے زخمی جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما مولانا کفایت انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع ملاکنڈ کی تحصیل بٹ خیلہ میں بیٹے کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما مولانا کفایت اللہ انتقال کرگئے۔
رپورٹ کے مطابق جمعیت علما اسلام ضلع ملاکنڈ کے امیر مفتی کفایت اللہ چند روز قبل بیٹے کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔
مفتی کفایت اللہ پشاورکے بعد اسلام آباد کے اسپتال میں زیر علاج تھے، مفتی کفایت اللہ کی نمازِ جنازہ رات 10 بجے ظفر پارک بٹ خیلہ میں ادا کی جائے گی۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی مالاکنڈ کے امیر مفتی کفایت اللہ کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کریم مرحوم کی ہمہ جہت خدمات کو شرف قبولیت عطاء فرمائے۔
اپنے ایک جاری بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مرحوم کی دعوتی اور جماعتی خدمات یاد رکھی جائیں گی، مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، اللہ کریم لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
چند روز قبل بیٹے کی فائرنگ سے مفتی کفایت اللہ کا ایک بیٹا اور بیٹی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مفتی کفایت اللہ اور ان کی اہلیہ زخمی ہو گئے تھے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، ان کا ایک بیٹا اور بیٹی بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیٹے کی فائرنگ سے مفتی کفایت اللہ
پڑھیں:
دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیراہتمام ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران بھارتی پولیس اور ‘ریپڈ ایکشن فورس’ کے تشدد، لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد مظاہرین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس اور بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹس کے مطابق، 20 جولائی کو نوجوانوں کے اس احتجاج کے دوران فورسز کے مبینہ پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والے کم از کم 4 افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر طلبہ ہیں۔
طالب علم کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہرپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے نجف گڑھ کے رہائشی اور ‘دہلی یونیورسٹی اسکول آف اوپن لرننگ’ کے 19 سالہ طالب علم سہیل لوچھب کی دائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ 21 جولائی کو ‘آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (AIIMS) میں ان کا آپریشن کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ سہیل کی دائیں آنکھ کی بینائی بحال ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق سہیل مستقبل میں پولیس افسر بننے کا عزم رکھتے تھے۔
حساس مقام پر پیلٹ پھنسنے سے نوجوان کی حالت تشویشناکایک اور افسوسناک واقعے میں 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ‘لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج’ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جراحی کے بعد ان کے چہرے سے متعدد پیلٹس نکال لیے۔ تاہم، گردن کی شریان کے بالکل قریب انتہائی حساس مقام پر پھنسے ایک پیلٹ کو تاحال نہیں نکالا جا سکا، جس سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
حکام کی تردید اور تحقیقات کا آغازمظاہرین اور متاثرین نے پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کا الزام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے خصوصی یونٹ ’ریپڈ ایکشن فورس‘پر عائد کیا ہے، جسے مظاہرے سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، سیکیورٹی حکام نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم عوام اور میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد سی آر پی ایف انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز ماضی میں پیلٹ گن کا استعمال زیادہ تر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ نئی دہلی کے مرکزی شہر میں اس کا استعمال ایک غیر معمولی اور شدید متنازع اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں