سونو نگم کا علی ظفر سے قریبی تعلقات اور محبت کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک) بھارتی موسیقی کے لیجنڈری گلوکار سونو نگم نے پاکستانی پاپ اسٹار علی ظفر کے ساتھ قریبی تعلقات اور محبت کا اعتراف کیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ مستقل طور پر علی ظفر سے رابطے میں رہتے ہیں۔
سونو نگم کا کہنا تھا کہ “میں ہر ہفتے یا دو ہفتے بعد علی ظفر سے بات کرتا ہوں۔ وہ نہایت اچھے اور عظیم انسان ہیں۔” ان کے مطابق وہ ان لوگوں سے زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں جن کی سوچ اور اقدار ان سے مطابقت رکھتی ہیں۔
A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
اسی انٹرویو میں سونو نگم نے پاکستانی لوک گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے ساتھ جڑی یادوں کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیریئر کے آغاز میں وہ عطا اللہ کے مشہور گانے “اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا” گایا کرتے تھے۔
سونو نگم نے کہا کہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے گانوں نے ان کے کیریئر کو نیا رخ دیا اور وہ ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی ظفر
پڑھیں:
اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
فوٹو: اسکرین گریبوزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے جہاں پاکستان اور ایران کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملاقات ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ اس دوران دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اسحاق ڈار نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام فریق تحمل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
کراچی امریکی جریدے فارن افیئرز کے مطابق ایران...
انہوں نے مزید کہا کہ دیرپا امن و استحکام کےلیے مسلسل سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔ جون 2026 کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مفاہمت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ایرانی ماہی گیروں اور عملے کی بحفاظت وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے روکے گئے جہازوں کے ایرانی عملے کی واپسی میں بھی پاکستان نے سہولت فراہم کی۔ پاکستان نے ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کیلئے ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ حکام سے قریبی رابطہ رکھا۔