WE News:
2026-06-02@22:48:38 GMT

ایرانی خاتون نے 23 برسوں میں 11 شوہر قتل کردیے، وجہ کیا تھی؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT

ایرانی خاتون نے 23 برسوں میں 11 شوہر قتل کردیے، وجہ کیا تھی؟

ایران میں 56 سالہ کلثوم اکبری نامی خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ 22 سال کے دوران اپنے 11 شوہروں کو زہر دے کر قتل کیا تاہم وہ خود اس تعداد سے لاعلم نظر آتی ہیں۔

دوران تفتیش انہوں نے حیران کن انداز میں کہا کہ ’جھے یاد نہیں کتنے لوگوں کو مارا، شاید 13 یا 15 ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: شوہر کو کیسے قتل کیا جائے؟ بھارتی خاتون نے یوٹیوب سے طریقہ سیکھ کر ’کامیاب واردات’ کر ڈالی

ایرانی میڈیا کے مطابق کلثوم اکبری پر الزام ہے کہ وہ عمر رسیدہ اور تنہا مردوں سے شادی کرتی تھیں اور کچھ ہی عرصے بعد انہیں زہریلی ادویات، نشہ آور گولیاں، ذیابیطس کی دوائیں، صنعتی الکحل کھلا کر یا تکیے سے دم گھوٹ کر جان سے مار دیتی تھیں۔

یہ وارداتیں مختلف شہروں میں کی گئیں تاکہ کسی ایک جگہ شک نہ ہو۔ مردوں کی موت کو عموماً ان کی عمر یا بیماری کی وجہ سے قدرتی سمجھا جاتا رہا۔

قتل کا یہ سلسلہ مہم سال سنہ 2000 میں شروع ہوا اور سنہ 2023 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب کلثوم کے آخری شوہر 82 سالہ غلام رضا بابائی کی موت کے بعد ان کے بیٹے کو شک ہوا۔ ایک دوست نے بتایا کہ اس کی اپنی والدہ کو بھی کبھی ایک عورت نے زہر دینے کی کوشش کی تھی اور جب بیٹے نے کلثوم کو دیکھا تو وہ0 وہی خاتون نکلیں۔

مزید پڑھیے: سکھر: گھریلو ناچاقی پر بیوی نے شوہر کو قتل کردیا

پولیس تفتیش کے بعد کلثوم نے اعتراف جرم کر لیا اگرچہ اب بھی وہ ہر بار مختلف تعداد بتاتی ہیں۔ مقتولین میں سے کچھ لوگوں کے نام معلوم ہوئے ہیں۔ میر احمد عمرانی (69 سال) شادی کے ایک ماہ بعد مارے گئے، اسماعیل بخشی (62) 2 ماہ بعد قتل کیے گئے، گنج علی حمزائی (83) شادی کے 43 دن بعد ماردیے گئے۔

ایک شوہر مسیح نعمتی زہر سے بچ نکلے تھے مگر پولیس کو اطلاع دینے کی بجائے انہوں نے صرف خاتون کو گھر سے نکال دیا تھا۔

خاتون نے یہ قتل کیوں کیے؟

استغاثہ کے مطابق ملزمہ نے شادی کے ذریعے ملنے والی جائیداد، رقم اور زیورات کے لیے قتل کیے اور زیادہ تر مال اپنی بیٹی کے نام پر منتقل کیا۔

کلثوم اکبری پر 11 افراد کے جان بوجھ کر قتل اور ایک قتل کی کوشش کا مقدمہ چل رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے 45 سے زائد ورثا نے عدالت سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

اگر وہ مجرم قرار پائیں تو ان کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی خاتون نے سرکاری نوکری ہتھیانے کے لیے شوہر کو قتل کردیا

یہ کیس نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر میں سنسنی کا باعث بنا ہے۔ ایک ہی خاتون کا اتنے منظم انداز میں کئی برسوں تک وارداتیں کرنا اور اتنی دیر تک بچے رہنا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرتی ڈھانچے کے لیے کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ اس کیس میں خاتون کا نفسیاتی تجزیہ بھی اہم ہو گا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ محض دولت کے حصول کے لیے تھا یا کسی ذہنی مسئلے کا نتیجہ تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

11 شوہر قتل کرنے والی ملزمہ ایران ایرانی خاتون گرفتار بیوی کے ہاتھوں شوہروں کا قتل خاتون کے ہاتھوں شوہر قتل کلثوم اکبری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 11 شوہر قتل کرنے والی ملزمہ ایران ایرانی خاتون گرفتار بیوی کے ہاتھوں شوہروں کا قتل خاتون کے ہاتھوں شوہر قتل کلثوم اکبری کلثوم اکبری خاتون نے کے لیے قتل کی

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور