پاکستان میں سیلابوں سے تباہی، بیرونی ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے کتنی امداد آئی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
پاکستان میں خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو مدد فراہم کرنے کے لیے جہاں دنیا کے کئی ممالک نے امداد پاکستان بھجوائی ہے وہیں بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ نے پاکستان کو مدد فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے پنجاب میں تباہی، کئی بند ٹوٹنے سے بستیاں ڈوب گئیں، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل
2 روز قبل اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے 06 لاکھ ڈالر کی امداد بھجوائی۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی معاملات (اوچا) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے پاکستان میں سیلاب متاثرین کو طبی امداد رہائش اور خوراک کی ضرورت ہے۔ اوچا پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کے آپریشن کو لیڈ کر رہا ہے۔ اوچا نے خیبر پختونخواہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے اداروں ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یو این ڈی پی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے آلات کی تنصیب کے سلسلے میں مسلسل کام کر رہے ہیں۔
سعودی عربسعودی عرب کا کنگ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد میں پیش پیش رہا، اس نے سیلاب متاثرین میں کھانے پینے کی اشیا، خیمے، کمبل اور طبّی امداد تقسیم کی ہے۔ 20 اگست کو اِسلام آباد سے خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرین کے لیے ایک بڑا امدادی قافلہ بھیجا گیا جس کی الواداعی تقریب میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے شرکت کی۔
مزید پڑھیے: سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب
اس قافلے میں 10 ہزار عارضی پناہ گاہوں کے علاوہ خیمے، کمبل، سولر پینلز اور ایل ای ڈی لائٹس شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 95 کلو وزنی فی کس امدادی تھیلے بھی بھجوائے گئے جن میں آٹا، دالیں، کوکنگ آئل اور دیگر کھانے پینے کا سامان شامل تھا۔
برطانیہبرطانیہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 1.
امریکا کی بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے ایک ملین ڈالر مدد کا اعلان کیا ہے۔
ترکیہترکیہ کی جانب سے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ایک جہاز امدادی اشیا بھجوانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ ترکش کوآپریشن اینڈ کوآرڈینیشن نامی ادارہ اگست کے وسط سے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کر رہا ہے جس میں 15000 کھانے بھی شامل ہیں۔
چین کی جانب سے مددعوامی جمہوریہ چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیتا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے 21 اگست کو دورۂ چین کے دوران چین نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی۔
قطرحالیہ سیلابوں کے تناظر میں قطر چیرٹی نے پاکستان میں اپنے دفاتر کو فعّال کیا اور قطر چیریٹی پاکستان میں این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں قطر چیریٹی نے پاکستان کے ساتھ 11.9 ملین ڈالر امداد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے محفوظ گھروں کی تعمیر تھا۔
جاپانجاپان نے دسمبر 2024 میں پاکستان کو سیلابوں سے بچاؤ کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 28.58 ملین ڈالر امداد دی تھی جو کہ موجودہ سیلابی صورتحال کے لیے بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بین الاقوامی امداد پاکستان سیلاب سیلاب اور امداد کنگ سلمان ریلیف سینٹر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی امداد پاکستان سیلاب سیلاب اور امداد کنگ سلمان ریلیف سینٹر نے پاکستان میں سیلاب متاثرین پاکستان میں سیلاب متاثرین کی اقوام متحدہ کی امداد سیلاب سے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔