چشتیاں: ستلج میں پانی کی سطح بلند، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل، 50 کے قریب بستیاں زیرِآب
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے باعث چشتیاں کے نواحی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور 50 کے قریب بستیاں زیرآب ہوگئیں۔
بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، بستی میروں بلوچاں، موضع عظیم، قاضی والی بستی، بستی شادم شاہ اور دلہ عاکوکا سمیت 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کشتیوں اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال رہی ہیں جبکہ کئی مقامات پر فصیلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ کماد اور تل کی فصلیں شدید متاثر ہونے سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔
انتظامیہ کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں صبح تک مزید اضافے اور مزید بند ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور اعلانات کے ذریعے عوام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے علاقہ مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نقل مکانی کریں اور سیلابی صورتحال میں تعاون کریں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔