جنوبی مقبوضہ فلسطین میں پراسرار آگ اور بجلی کے تعطل نے خوف و ہراس بڑھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
فلسطین کے جنوبی مقبوضہ علاقوں میں پراسرار نوعیت کی آگ اور بجلی کے بار بار تعطل نے عوام میں خوف و ہراس کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اسرائیلی فائر سروس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بحیرہ مردار کے قریب ایک فیکٹری کے برقی کیبن میں آگ بھڑک اٹھی۔
عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف 10 روز قبل اسی فیکٹری کے پاور اسٹیشن میں ٹرانسفارمر آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہوگیا تھا، جس سے آلات کو شدید نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: پوپ لیو کا اسرائیل سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اجتماعی سزا روکنے کا مطالبہ
حالیہ ہفتوں میں جنوبی مقبوضہ خطہ متعدد برقی حادثات کی زد میں رہا ہے، جن میں ٹرانسفارمر دھماکے، برقی کیبن میں آگ، ایئر کنڈیشنر موٹرز اور پاور پینلز کے جلنے کے واقعات شامل ہیں۔
یہ سلسلہ صرف رہائشی عمارتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ تجارتی مراکز، صنعتی تنصیبات، سیاحتی کمپلیکس اور ہوٹلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، جس سے آباد کاروں میں شدید خوف پھیل گیا ہے۔
اگرچہ ماہرین دن رات کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اسرائیلی انجینئرز اب تک ان پے در پے حادثات کی اصل وجہ جاننے میں ناکام ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجلی کے تعطل پراسرار آگ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی کے تعطل فلسطین
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔