سیالکوٹ: عمرہ کیلئے سعودی عرب جانے والے مسافر کے پیٹ سے کوکین سے بھرے 40 کیپسول برآمد
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
لاہور:
اے این ایف نے سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ گروہ کے 2 کارندے گرفتار کر لئے۔
عمرہ کیلئے سعودی عرب روانہ ہونے والے ملزم کے پیٹ سے کوکین بھرے 40 کیپسولز برآمد ہوئے جس میں 230 گرام کوکین موجود تھی۔
ملزم کی نشاندہی پر اس کے ساتھی سہولت کار کو ایئرپورٹ کی پارکنگ سے گرفتار کر لیا گیا، ملزم کو اسپتال منتقل کرکے منشیات سے بھرے کیپسولز نکالے گئے۔
ترجمان اے این ایف کا کہنا ہے کہ عمرہ کے مقدس سفر کو منشیات اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنا شرمناک ہے۔ اے این ایف منشیات کی بیرون ممالک ترسیل کی روک تھام کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اے این ایف جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ اطلاعات کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف سرگرم عمل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے این ایف
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔