کراچی میں زیر تعمیر عمارت کے بلڈر کو بھتے کی پرچی موصول
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے گارڈن میں لیاری ایکسپریس وے کے انٹرچینج کے قریب زیر تعمیر عمارت کے بلڈر کو بھتے کی پرچی موصول ہوئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شہر قائد کے علاقے گارڈن انٹرچینج کے قریب زیر تعمیرعمارت کے 2 مزدورں کو بھتے کی پرچی دینے اور انھیں فائرنگ سے کرنے میں ملوث ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔
گارڈن پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا جس میں بھتہ خوری ، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
گارڈن انٹر چینج کے قریب زیر تعمیر عمارت میں بھتے کی پرچی اور فون نمبر دینے کی فوٹیج منظر عام ہر آگئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان عمارت کے باہر آئے جس میں شلوار قیمص اور سر پر پی کیپ اور ماسک لگایا چوکی دار اندر آیا اور مزدور کو بھتے کی پرچی تھمائی۔
اسی کے ساتھ مسلح شخص نے مزدور کو یرغمال بنایا اور اُسے اندر لے گیا۔ ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو مزدور زخمی بھی ہوئے۔
گارڈن پولیس نے واقعہ کا مقدمہ نمبر 354 سال 2025 بجرم دفعات 384 ، 385 ، 324 اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے کے تحت پلاٹ کے چوکیدار عاشق کی مدعیت میں نامعلوم بھتہ خوروں کے خلاف درج کرلیا۔
مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ ملزم نے اسے بھتے کی چار پرچیاں دیتے ہوئے دھمکی دی کہ ٹھیکیدار سے بولنا کہ اس نمبر پر رابطہ کرلینا ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔
مدعی کے مطابق بھتہ خور نے اس کی کمر پر پستول رکھی ہوئی تھی اور کہا کہ کوئی پیچھے نہیں آئیگا اور کچھ قدم چلنے کے بعد اس نے فائرنگ کر دی جس میں تو بچ گیا لیکن فائرنگ سے سائٹ سپروائزر جمیل اور مزدور جہانگیر گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے۔
گارڈن پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے حوالے کر دیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمارت کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔