بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کوچی میں ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب کیندرا بینک کے ملازمین نے دفتر کے باہر ’’بیف فیسٹ‘‘ منایا اور ساتھیوں کو بیف پراٹھے تقسیم کیے۔ یہ احتجاج دفتر کی کینٹین میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کے فیصلے کے خلاف تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بینک کے نئے علاقائی منیجر، جو بہار سے تعلق رکھتے ہیں، نے کینٹین میں بیف فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ان کے اس فیصلے کو نہ صرف ملازمین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ معاملہ بڑھتے بڑھتے ایک علامتی احتجاج میں بدل گیا۔

احتجاج کی قیادت بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی) نے کی۔ ابتدا میں احتجاج منیجر کے مبینہ توہین آمیز رویے اور ملازمین کو ذہنی اذیت دینے کے خلاف تھا، لیکن جب کینٹین میں بیف بند ہوا تو ملازمین نے کھلے عام دفتر کے سامنے بیف پراٹھے کھا کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔

کیرالہ میں اس سے قبل بھی ’’بیف فیسٹ‘‘ دیکھنے کو مل چکے ہیں۔ 2017 میں مرکزی حکومت نے مویشی منڈیوں میں ذبح کے لیے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تھی، جس کے خلاف ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر بیف فیسٹ منائے گئے تھے۔ 

https://www.

facebook.com/reel/1761610394494650?rdid=fxZlya5pWVhpU3MI&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2Fr%2F19V9c9way9%2F

کیرالہ بھارت کی اُن ریاستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں بیف بڑے پیمانے پر کھایا جاتا ہے اور اس پابندی کو اکثر ثقافتی اور سیاسی حساسیت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں خوراک کی آزادی اور ثقافتی تنوع پر بحث کو تازہ کر رہا ہے۔ بعض حلقے اسے ملازمین کے بنیادی حقوق کی پامالی قرار دے رہے ہیں، جب کہ دائیں بازو کے گروہ بیف کھانے کو ہندو مذہبی عقائد کے خلاف سمجھتے ہیں۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملازمین نے کینٹین میں کے خلاف بیف پر

پڑھیں:

سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔

ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ