بینک کی کینٹین میں بیف پر پابندی، ملازمین نے بیف پراٹھے بانٹ کر انوکھا احتجاج کیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کوچی میں ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب کیندرا بینک کے ملازمین نے دفتر کے باہر ’’بیف فیسٹ‘‘ منایا اور ساتھیوں کو بیف پراٹھے تقسیم کیے۔ یہ احتجاج دفتر کی کینٹین میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کے فیصلے کے خلاف تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بینک کے نئے علاقائی منیجر، جو بہار سے تعلق رکھتے ہیں، نے کینٹین میں بیف فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ان کے اس فیصلے کو نہ صرف ملازمین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ معاملہ بڑھتے بڑھتے ایک علامتی احتجاج میں بدل گیا۔
احتجاج کی قیادت بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی) نے کی۔ ابتدا میں احتجاج منیجر کے مبینہ توہین آمیز رویے اور ملازمین کو ذہنی اذیت دینے کے خلاف تھا، لیکن جب کینٹین میں بیف بند ہوا تو ملازمین نے کھلے عام دفتر کے سامنے بیف پراٹھے کھا کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔
کیرالہ میں اس سے قبل بھی ’’بیف فیسٹ‘‘ دیکھنے کو مل چکے ہیں۔ 2017 میں مرکزی حکومت نے مویشی منڈیوں میں ذبح کے لیے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تھی، جس کے خلاف ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر بیف فیسٹ منائے گئے تھے۔
https://www.facebook.com/reel/1761610394494650?rdid=fxZlya5pWVhpU3MI&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2Fr%2F19V9c9way9%2F
کیرالہ بھارت کی اُن ریاستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں بیف بڑے پیمانے پر کھایا جاتا ہے اور اس پابندی کو اکثر ثقافتی اور سیاسی حساسیت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں خوراک کی آزادی اور ثقافتی تنوع پر بحث کو تازہ کر رہا ہے۔ بعض حلقے اسے ملازمین کے بنیادی حقوق کی پامالی قرار دے رہے ہیں، جب کہ دائیں بازو کے گروہ بیف کھانے کو ہندو مذہبی عقائد کے خلاف سمجھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملازمین نے کینٹین میں کے خلاف بیف پر
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :