یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش، حکومت کا ملازمین کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کا فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن حکومت نے ملازمین کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کر کے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے وعدے پورے کرے گی اور تمام مالی رقوم جلد ملازمین کو منتقل کر دی جائیں گی۔
ملازمین کے لیے سہولتیں
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بیوہ کی پینشن کو دس سال کے لیے منظور کیا گیا ہے جبکہ جن ملازمین کی سروس 15 سال مکمل ہوچکی ہے ان کے حقوق بھی محفوظ رہیں گے۔ چار برس سے رکی ہوئی تنخواہیں اور بقایاجات کی ادائیگی بھی کی جائے گی۔
ادارے کا مالی بوجھ
ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر بڑھتا ہوا بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ “یہ فیصلہ ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملازمین کو ریلیف ملے اور کوئی اپنے جائز حق سے محروم نہ ہو۔”
تعاون اور اتفاق
انہوں نے کہا کہ ملازمین کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور بیشتر معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ “یہ ایک تاریخی موقع ہے جہاں حکومت اور ملازمین نے مل بیٹھ کر فیصلے کیے ہیں تاکہ ادارے کی بندش کے باوجود کسی کو مالی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔”
مستقبل میں امکانات
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز نے ہمیشہ مشکل وقت میں عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ اگر مستقبل میں حکومت کو دوبارہ اس ادارے کی ضرورت پیش آئی تو اسے فعال کرنے پر غور کیا جائے گا۔
ملازمین کی توقعات
انہوں نے یقین دلایا کہ تمام معاملات شفاف انداز میں مکمل کیے جائیں گے اور حکومت ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ “یہ فیصلہ بوجھ کم کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کے تحفظ کے لیے بھی ہے۔”
یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین کی نمائندہ کمیٹی کے رکن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج ایک بڑا فیصلہ ہے جس پر ملازمین شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت اپنے وعدوں پر جلد عمل کرے گی اور فنڈز ملازمین کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے جائیں گے۔
حکومتی اقدامات پر اظہار تشکر
نمائندہ کمیٹی کے رکن نے کہا کہ 50 سال بعد ملازمین کے ساتھ اس سطح پر حکومتی معاہدہ ہوا ہے جسے خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے۔ “ہم حکومت اور بالخصوص وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فضل چوہدری کے مشکور ہیں جنہوں نے ملازمین کے مسائل حل کرانے میں عملی کردار ادا کیا۔”
ملازمین کے مسائل
انہوں نے کہا کہ بیوہ کی پینشن کو دس سال کے لیے بڑھانا اور چار برس سے رکی ہوئی تنخواہوں کی ادائیگی سب سے بڑا ریلیف ہے۔ “ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ رقوم جلد از جلد جاری کی جائیں تاکہ متاثرہ ملازمین اور ان کے خاندان سکون کا سانس لے سکیں۔”
ادارے کی بندش اور مستقبل
نمائندہ کمیٹی کے رکن نے تسلیم کیا کہ ادارے پر مالی بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا تھا اور حالات کی وجہ سے اس فیصلے کو قبول کرنا پڑا۔ “اگر مستقبل میں حالات بہتر ہوں اور حکومت کو ضرورت پیش آئے تو ہم دوبارہ عوام کی خدمت کے لیے تیار ہوں گے۔”
حکومتی تعاون پر اعتماد
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ “ہم چاہتے ہیں کہ باقی بقایا جات، پینشن اور دیگر واجبات بھی جلد از جلد ادا کیے جائیں تاکہ عدالتوں کا رخ نہ کرنا پڑے اور معاملات خوش اسلوبی سے طے پائیں۔”
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یوٹیلیٹی اسٹورز طارق فضل چوہدری انہوں نے کہا کہ ملازمین کے کہ حکومت کی بندش کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔