امریکی شہری نے سب سے زیادہ ربڑ کی چپلیں جمع کرنے کا ریکارڈ قائم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
ایک امریکی شہری نے سب سے زیادہ ربڑ کی چپلیں جمع کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کرلیا ہے۔
امریکی ریاست کنیکٹی کٹ میں رہنے والے ڈوگی لش کو 2025 میں ریکارڈ کے حوالے سے گنیز ورلڈ ریکارڈ کی تصدیق ملی جنہوں نے Crocs (مخصوص قسم کے ربڑ سے بنی چپلوں) کا سب سے بڑا مجموعہ جمع کیا ہے۔
ڈوگی کے پاس ان چپلوں کے تقریباً 3,803 جوڑے ہیں۔ یہ واقعی ایک زبردست سنگ میل ہے۔
ڈوگی نے کہا کہ انہوں نے اپنے جرنل میں اہداف کی ایک فہرست بنائی تھی جب وہ نوعمر تھے، اور اس طرح انہوں نے یہ چپلیں جمع کرنا شروع کیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اسے اپنے اہداف کی فہرست کہا
اس کے علاوہ اسنیکرز اور جوتوں کے ریکارڈز کے حوالے سے جورڈن گیلر کا نام آتا ہے جو امریکی اسنیکرز کے شوقین ہیں۔ جورڈن کے پاس 2012 تک دنیا کے سب سے بڑے اسنیکر کلیکشن کا گنیز ریکارڈ تھا جس میں 2,388 جوڑے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔