چینی صدر نے شنگھائی روح کو فروغ دے کر بین الاقوامی تعلقات کی نئی قسم کی بنیاد رکھی
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
بیجنگ:
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) 24 سال کی شان دار ترقی کے بعد ایک ایسی تنظیم کے طور پر ابھری ہے جس کا اثر و رسوخ اور عالمی سطح پر پہچان مسلسل بڑھ رہی ہے، یہ تنظیم چین میں اپنے قیام کے مقام پر اپنی اب تک کی سب سے بڑی سالانہ سربراہ کانفرنس منعقد کر رہی ہے اور صدر شی جن پنگ نے بین الاقوامی تعلقات کی نئی قسم کی بنیاد رکھی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اتوار سے پیر تک تیانجن میں اس سربراہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں جہاں رکن ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اگلے 10سال کے لیے تنظیم کی ترقی کی حکمت عملی سمیت اہم دستاویزات منظور کریں گے۔
توقع ہے کہ صدر شی جن پنگ ایس سی او کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور ہمہ جہتی تعاون کی حمایت کے لیے چین کے نئے اقدامات اور کارروائیوں کا بھی اعلان کریں گے اور تنظیم کے لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کے تحفظ اور عالمی نظم و نسق کے نظام کو بہتر بنانے میں تعمیری طور پر حصہ ڈالنے کا راستہ بھی واضح کریں گے۔
جون 2001 میں شنگھائی میں قائم ہونے والی ایس سی او 6 بانی اراکین سے بڑھ کر 10 اراکین، 2 مبصرین اور 14 ڈائیلاگ پارٹنرز کے ساتھ 26 ممالک پر مشتمل ایک خاندان بن چکی ہے جو ایشیا، یورپ اور افریقہ تک پھیلا ہوا ہے۔
چین، روس اور بھارت جیسی بڑی ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کی شمو لیت کے ساتھ ایس سی او دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی معیشت کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتی ہے جو علاقائی استحکام اور عملی تعاون کا ایک اہم ستون ہے۔
صدر شی جن پنگ تیانجن میں سربراہی اجلاس کی دوسری بار میزبانی کریں گے، چین کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے صدر شی نے ایس سی او کے 12 سربراہ اجلاسوں میں شرکت کی ہے جس سے ایس سی او کی اسٹریٹجک سمت تشکیل دینے اور اسے عالمی نظم و نسق میں ایک زیادہ بااثر کردار کی طرف لے جانے میں مدد ملی ہے۔
تیانجن میں سربراہی اجلاس سے قبل صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ایس سی او ایک مضبوط فریم ورک میں پختہ ہو چکی ہےجو مضبوط قوت کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس نے بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم کی مثال قائم کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی ایس سی او کریں گے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :