دریائے راوی میں پانی کی سطح کم ہوتے ہی شہری تفریح کیلئے پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
لاہور:
دریائے راوی میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد شہری سیر و تفریح کے لیے پہنچ گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شہری دریا کی سیرکے لیے کشتی میں سوار ہو کر تفریح کرنے لگے، جن میں خواتین، مرد اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
دریائے راوی کے اطراف رضاکار اور سول ڈیفنس کشتیاں لے کرکھڑے ہیں جہاں لوگ زبردستی کرتے ہوئے کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرنے لگے۔
موقع پر موجود حکومتی اداروں کی جانب سے کشتی میں سفر کرنے والوں سے روکا نہیں جا رہا ہے، راوی میں پانی کی سطح بھی کم ہوگئی ہے بظاہر اسی وجہ سے حکومتی اداروں کی توجہ بھی کم ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ دریائے راوی میں پانی کی سطح کم ضرورہوئی ہے لیکن ابھی بارش کی وجہ سے خطرہ کم نہیں ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راوی میں پانی کی سطح دریائے راوی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک