اسلام آباد سمیت پنجاب میں بدھ تک شدید بارشوں کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے پیر سے بدھ تک اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارشوں کے امکان پر الرٹ جاری کردیا ہے۔
مزید بارشوں سے سیلاب کی شدت بڑھنے کا خدشہاین ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، چنیوٹ، سرگودھا، بھکر، میانوالی اور فیصل آباد سمیت پہلے سے متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال میں شدت آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، ملتان، بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بھی سیلابی خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
دریائے راوی بلند ترین سطح پرپنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے ہیڈ بالوکی میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے راوی بلند ترین سطح پر پہنچ رہا ہے، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں اب تک 33 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 2 ملین افراد تباہ کن سیلاب سے متاثر ہیں۔
مزید دیہات زیر آب آنے کا خدشہپی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی کا مرکزی سیلابی ریلا ہیڈ بلوکی سے گزر رہا ہے جس سے خانیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اوکاڑہ، ساہیوال، کمالیہ، خانیوال اور کبیر والا کے دیہات میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کل تک 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی پہنچنے کا امکان ہے۔
حفاظتی اقدامات کی ہدایتنشیبوں میں رہنے والے شہریوں اور ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کیونکہ پانی کے اچانک بڑھنے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ بروقت حفاظتی اقدامات کریں اور حساس علاقوں سے دور رہیں۔ ادارے مشینری اور پمپ پہلے سے تیار رکھیں تاکہ نشیبی علاقوں سے پانی فوری نکالا جا سکے۔ عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ بلند پانی کی صورت میں ندی نالے، پل اور زیر آب سڑکیں عبور کرنے سے گریز کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد الرٹ اوکاڑہ پنجاب پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خانیوال دریائے راوی سیالکوٹ سیلاب عرفان علی کاٹھیا لاہور نارووال نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد الرٹ اوکاڑہ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خانیوال دریائے راوی سیالکوٹ سیلاب عرفان علی کاٹھیا لاہور نارووال نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ڈی ایم اے دریائے راوی ڈی ایم اے کے کا خدشہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔