ساہیوال، دریائے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب، تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
ساہیوال:
دریائے راوی میں آئے ہوئے شدید سیلاب نے ساہیوال کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں ضلع بھر کے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
سیلابی پانی کی تیزی نے متعدد گھروں اور علاقوں کو متاثر کیا ہے، اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
موضع اکبر شاہ کے علاقے میں سیلابی پانی نے ایک گھر کی چھت کو گھیر لیا تھا، جہاں تین افراد جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں، پھنس گئے تھے۔
رشتہ داروں کی فوری اطلاع پر ڈپٹی کمشنر شاہد محمود کی قیادت میں ریسکیو 1122 اور پاک فوج نے مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
ڈپٹی کمشنر ساہیوال شاہد محمود نے ریسکیو اہلکاروں کی بروقت کارروائی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں شاباش دی۔
سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے 74 اسکول مزید 7 روز کے لیے بند رہیں گے۔
اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اسکولوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر شاہد محمود نے واضح کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے باقی تمام اسکول یکم ستمبر کو معمول کے مطابق کھل جائیں گے، اور تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔
سیلاب کے باعث ساہیوال کے مختلف علاقوں میں صورتحال انتہائی نازک ہے، تاہم انتظامیہ اور امدادی ادارے سیلابی علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ مزید نقصانات کو روکا جا سکے اور متاثرہ افراد کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں