افغان صوبہ ننگرہار طاقتور زلزلے سے لرز اٹھا، 9 افراد جاں بحق، متعدد عمارتیں تباہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
KABUL:
افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک خوفناک زلزلہ آیا جس نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہو گئے۔
زلزلے کا مرکز جلال آباد کے قریب تھا، اور اس کی گہرائی صرف 8 کلومیٹر تھی۔ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 47 منٹ پر آیا۔
یہ زلزلہ اتنی شدت کا تھا کہ اس کے اثرات دور تک محسوس کیے گئے۔ اس کے بعد تقریباً 20 منٹ بعد 4.
ننگرہار کے محکمہ صحت کے ترجمان نے تصدیق کی کہ مختلف حادثات میں 9 افراد کی جان چلی گئی، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں کی حالت نازک ہے، اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ یہ تباہ کن زلزلہ جانی و مالی نقصانات کا سبب بنا۔ وہ نے مزید بتایا کہ مقامی حکام اور طالبان کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔
زلزلے کے بعد، مرکز اور دیگر صوبوں سے ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئیں تاکہ تباہی کے شکار علاقوں میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔ متاثرہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور ملبے میں دبے افراد کی تلاش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔