سندھ میں سیلابی صورت حال کے پیش نظر 200 افراد کا انخلا، مزید 4500 کی منتقلی کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
سندھ کےضلع ٹنڈو محمد خان میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر آبادی کے انخلاء کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
حکومتِ سندھ کی ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے کہا ہے کہ اب تک 200 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ مزید 4500 افراد کو منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ خطرہ گاؤں جمو ملاح کو لاحق ہے جس کا کچھ حصہ پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
حکومت سندھ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے مقبروں شریف کے علاقے میں ٹینٹ سٹی کے نام سے ایک بڑا کیمپ قائم کیا ہے جس کی گنجائش 2500 سے 3000 گھرانوں تک ہے۔ joaN متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش، خوراک، پینے کے پانی اور طبی امداد کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔
سیدہ تحسین عابدی نے کہا کہ حکومت سندھ نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دے دی ہے اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر قریبی قائم کردہ کیمپ یا محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔