‘بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹس کو پیچھے چھوڑیں گے،’ گورنر سندھ کا نوجوانوں کو دبئی کے 24 ٹکٹس دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی میں ایک فلاحی ادارے کے زیر اہتمام آئی ٹی انٹری ٹیسٹ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور حاضرین سے خطاب کیا۔
انہوں نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کریں گے اور بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹ کو پیچھے چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ نوجوان اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور ملک کا نام روشن کریں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کے مسائل کا حل کیسے ممکن ہے؟ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نسخہ بتادیا
اس موقع پر گورنر سندھ نے نوجوانوں کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے دبئی کے 24 ٹکٹس دینے کا اعلان کیا جبکہ ایک طالبہ کو خصوصی انعام کے طور پر عمرے کا ٹکٹ بھی پیش کیا۔
اس سے قبل انہوں نے لیاری میں عمارت گرنے کے المناک واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 80 گز کا پلاٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔
گورنر سندھ نے مطالبہ کیا تھا کہ سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کو 6 ماہ کا کرایہ ادا کرے اور انہیں اسی علاقے میں رہائش کے لیے گھر فراہم کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دبئی قرعہ اندازی کامران ٹیسوری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کامران ٹیسوری گورنر سندھ کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔