گجرات میں سیلاب متاثرین کو غیر معیاری اور بغیر اجازت کھانا تقسیم کرنے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
گجرات (نیوز ڈیسک) ڈپٹی کمشنر گجرات نورالعیْن قریشی نے سیلاب متاثرین کو غیر مجاز، غیر سرکاری افراد، نامور شخصیات اور این جی اوز کی جانب سے غیر معیاری اور بغیر چیک شدہ کھانا تقسیم کرنے پر فوری طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق مختلف افراد اور تنظیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں کھانے کی اشیاء اور پینے کے پانی کی غیر معیاری تقسیم سے عوامی صحت کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں صرف پنجاب فوڈ اتھارٹی یا ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی منظوری کے بعد ہی کھانے کی اشیاء، پانی اور دیگر خوراکی سامان تقسیم کیا جا سکے گا۔
حکم نامے کے مطابق یہ آرڈر 29 اگست 2025 سے نافذالعمل ہوگا اور 7 دن یعنی 5 ستمبر 2025 تک مؤثر رہے گا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ متاثرین کی صحت و سلامتی کے تحفظ کے لیے عوام اور تنظیموں کو اس فیصلے پر عمل کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
بھارت کی ریاست آسام میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سیلابی صورتحال سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 7 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
دریائے برہم پترا کے پانی میں اضافے سے تقریباً 900 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد کو سرکاری ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں خوراک اور امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور دریا کی بلند سطح کے باعث صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔