اسلام آباد:

ریاستی مالکیتی ادارے میں مالی بے ضابطگی اور بدانتظامی کی نشاندہی سرکا ری افسر کا جرم بن گیا ، وزیرتجارت جام کمال نے بد انتظامی کی نشاندہی کرنیوالے افسر کو پی آر سی ایل کے بورڈ اجلاسوں میں شرکت کالعدم قرار دیدی، وزیراعظم شہبازشریف نے شکیل منگنیجو بورڈ میں شامل کرنے کا حکم دیدیا۔ 

تفصیلات کے مطابق گریڈ 22 کے اسپیشل سیکریٹری وزیراعظم آفس شکیل منگنیجوکو وزیرتجارت نے نشانے پر لے لیا، وفاقی وزیرتجارت نے شکیل منگنیجو  کوآئندہ بورڈ اجلاسوں میں بلانے سے روک دیا اور مؤقف اپنایا کہ شکیل منگنیجو کی بورڈ اجلاسوں میں شرکت ایس اوایزایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

 تاہم وزارت تجارت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے شکیل منگنیجو کو بورڈ اجلاسوں میں شرکت جاری رکھنے کی ہدایت کر چکی ہے۔ 

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر نے مالی بدعنوانی میں ملوث سی ای او کی سرپرستی جاری رکھی، ریاستی ملکیتی ادارے پی آر سی ایل کے سی ای او فرمان اللہ زرکون کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا، وہ اضافی تنخواہیں اور الاؤنسز وصول کرتے رہے،انکو کارکردگی سے مشروط کئے بغیر دس بونس جاری کئے گئے۔ 

پی آر سی ایل بورڈ نے اپنے سی ای او کی تنخواہ بڑھا کر 19 لاکھ روپے مقرر کر دی، سی ای او نی بورڈ کی منظوری کے بغیر52.

3 ملین روپے اور 32 ماہ میں 358 ملین روپے وصول کئے، انہوں نے اپنے حق سے 22 گنا زیادہ مالی فوائد حاصل کئے۔ 

ذرائع کے مطابق شکیل منگجینو نے فرمان اللہ زرکون کی مالی بدعنوانیوں کی وزیراعظم آفس کو شکایت بھی کی، وفاقی وزیر کے روکے جانے پر شکیل منگجینو نے بورڈ کی آخری اجلاس میں شرکت نہیں کی ادھر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے معاملے پر ردِعمل میں کہا ہے کہ بطور وفاقی وزیر ادارے کی بہتری کیلئے فیصلے لینے کا پابند ہوں،سیلابی صورتحال کم ہونے پر وزیرِاعظم سے پی ار سی ایل بورڈ اوراین آئی سی ایل کے معاملات پر ملاقات کروں گا۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے شکیل منگنیجو بورڈ میں رکھنے کا حکمنامہ جاری کر دیام وزیر اعظم نے وزارت تجارت کو ڈائریکٹو جاری کر دیا جس کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بغیر شکیل منگنیجیو کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ 

فرمان اللہ زرکون نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ جو کیا قانون کے مطابق کیا، میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا، کمپنی کو 150فیصد منافع میں لے کر آیا، مجھے جو کچھ ملا بورڈ نے اسکی منظوری دی جبکہ سرکا ری ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کی سرمایہ کاری کی آمدنی میں اضافہ سٹاک مارکیٹ میں40 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ پوائنٹس اور بلند شرح سود کے ماحول کی وجہ سے ہوا نہ کہ کسی شراکت کی وجہ سے۔

ذرائع کے مطابق فرمان اللہ زرکون نے اپنے دور میں ایکوئٹی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور سرمایہ کاری پر زیادہ منافع پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری کی وجہ سے تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بورڈ اجلاسوں میں فرمان اللہ زرکون شکیل منگنیجو سرمایہ کاری وفاقی وزیر کے مطابق میں شرکت سی ای او سی ایل

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی