اسپیشل سیکریٹری پی ایم آفس وزیر تجارت کے زیر عتاب، وزیر اعظم کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ریاستی مالکیتی ادارے میں مالی بے ضابطگی اور بدانتظامی کی نشاندہی سرکا ری افسر کا جرم بن گیا ، وزیرتجارت جام کمال نے بد انتظامی کی نشاندہی کرنیوالے افسر کو پی آر سی ایل کے بورڈ اجلاسوں میں شرکت کالعدم قرار دیدی، وزیراعظم شہبازشریف نے شکیل منگنیجو بورڈ میں شامل کرنے کا حکم دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق گریڈ 22 کے اسپیشل سیکریٹری وزیراعظم آفس شکیل منگنیجوکو وزیرتجارت نے نشانے پر لے لیا، وفاقی وزیرتجارت نے شکیل منگنیجو کوآئندہ بورڈ اجلاسوں میں بلانے سے روک دیا اور مؤقف اپنایا کہ شکیل منگنیجو کی بورڈ اجلاسوں میں شرکت ایس اوایزایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
تاہم وزارت تجارت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے شکیل منگنیجو کو بورڈ اجلاسوں میں شرکت جاری رکھنے کی ہدایت کر چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر نے مالی بدعنوانی میں ملوث سی ای او کی سرپرستی جاری رکھی، ریاستی ملکیتی ادارے پی آر سی ایل کے سی ای او فرمان اللہ زرکون کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا، وہ اضافی تنخواہیں اور الاؤنسز وصول کرتے رہے،انکو کارکردگی سے مشروط کئے بغیر دس بونس جاری کئے گئے۔
پی آر سی ایل بورڈ نے اپنے سی ای او کی تنخواہ بڑھا کر 19 لاکھ روپے مقرر کر دی، سی ای او نی بورڈ کی منظوری کے بغیر52.
ذرائع کے مطابق شکیل منگجینو نے فرمان اللہ زرکون کی مالی بدعنوانیوں کی وزیراعظم آفس کو شکایت بھی کی، وفاقی وزیر کے روکے جانے پر شکیل منگجینو نے بورڈ کی آخری اجلاس میں شرکت نہیں کی ادھر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے معاملے پر ردِعمل میں کہا ہے کہ بطور وفاقی وزیر ادارے کی بہتری کیلئے فیصلے لینے کا پابند ہوں،سیلابی صورتحال کم ہونے پر وزیرِاعظم سے پی ار سی ایل بورڈ اوراین آئی سی ایل کے معاملات پر ملاقات کروں گا۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے شکیل منگنیجو بورڈ میں رکھنے کا حکمنامہ جاری کر دیام وزیر اعظم نے وزارت تجارت کو ڈائریکٹو جاری کر دیا جس کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بغیر شکیل منگنیجیو کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔
فرمان اللہ زرکون نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ جو کیا قانون کے مطابق کیا، میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا، کمپنی کو 150فیصد منافع میں لے کر آیا، مجھے جو کچھ ملا بورڈ نے اسکی منظوری دی جبکہ سرکا ری ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کی سرمایہ کاری کی آمدنی میں اضافہ سٹاک مارکیٹ میں40 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ پوائنٹس اور بلند شرح سود کے ماحول کی وجہ سے ہوا نہ کہ کسی شراکت کی وجہ سے۔
ذرائع کے مطابق فرمان اللہ زرکون نے اپنے دور میں ایکوئٹی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور سرمایہ کاری پر زیادہ منافع پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری کی وجہ سے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بورڈ اجلاسوں میں فرمان اللہ زرکون شکیل منگنیجو سرمایہ کاری وفاقی وزیر کے مطابق میں شرکت سی ای او سی ایل
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔