افغانستان کیوں بار بار زلزلے کی زد میں آتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
افغانستان ایک بار پھر ہلا دینے والے زلزلے کی لپیٹ میں آ گیا ہے، اتوار کی شب مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں 6.0 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں اب تک 800 افراد جاں بحق اور 2 ہزار 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ رات گئے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12 بجے آیا، جس کا مرکز جلال آباد شہر کے قریب، پاک افغان سرحد کے نزدیک تھا اور اس کی گہرائی صرف 8 کلومیٹر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کنڑ سمیت مشرقی افغانستان میں ہولناک زلزلہ، ہلاکتیں 500 سے تجاوز کرگئیں
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کی دوپہر پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ہے کہ اموات 4 ہزار تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد 1 ہزار 500 کے قریب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے زلزلوں کے لیے نہایت حساس بنا دیتی ہے۔ یہ ملک بھارتی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے، جہاں مسلسل تصادم جاری ہے۔ خاص طور پر ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ان جھٹکوں کا زیادہ شکار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں زلزلہ، پاکستان نے طبی امداد روانہ کر دی
یہ قدرتی وجہ تو اپنی جگہ لیکن ناقص انفراسٹرکچر ان زلزلوں کو مہلک اور تباہ کن بنا دیتا ہے۔ دیہی علاقوں میں زیادہ تر مکانات کچی مٹی یا کمزور تعمیراتی ڈھانچوں پر مشتمل ہیں، جو معمولی جھٹکوں میں بھی منہدم ہو جاتے ہیں۔
حالیہ دہائی کے چند مہلک ترین زلزلےگزشتہ دہائی میں افغانستان میں کئی بڑے زلزلے آئے جن میں اکتوبر 2015 میں 7.
ستمبر 2022 میں 5.1 اور 4.6 شدت کے زلزلوں میں 8 افراد ہلاک ہوئے، مارچ 2023 میں 6.5 شدت کے زلزلے نے 13 افراد کی جان لی، اکتوبر 2024 میں 6.3 شدت کے زلزلے میں کم از کم 2445 افراد ہلاک ہوئے جبکہ تازہ ترین 31 اگست 2025 کے زلزلے میں اب تک 800 اموات اور 2500 سے زائد زخمی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں آئندہ بھی شدید زلزلوں کے امکانات برقرار رہیں گے، جب تک مضبوط انفراسٹرکچر، فوری ایمرجنسی ریسکیو سسٹم اور زلزلہ مزاحم تعمیرات پر توجہ نہ دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان امریکی جیولوجیکل سروے ٹیکٹونک پلیٹس ذبیح اللہ مجاہد زلزلے کابل کنٹر کوہ ہندوکش
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان ذبیح اللہ مجاہد زلزلے کابل کوہ ہندوکش افغانستان میں کے زلزلے افراد کی شدت کے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔