Express News:
2026-06-02@22:34:55 GMT

مصنوعی قحط کی سفاک ٹیکنالوجی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

فورنزک آرکیٹیکچر نامی تحقیقی تنظیم اکتوبر دو ہزار تئیس سے غزہ میں اسرائیلی طرزِ عمل کا عمیق مطالعہ کر رہی ہے۔اس تنظیم کی تازہ ترین رپورٹ اٹھارہ مارچ تا یکم اگست کی مدت کا احاطہ کرتی ہے۔اٹھارہ مارچ کو اسرائیل نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی سمجھوتہ توڑ کے غزہ میں انسانی امداد کا داخلہ مکمل طور پر روک دیا۔اس کے بعد قحط کی جو فضا بنی وہ فورنزک آرکیٹیکچر کی تحقیق کے مطابق ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی ہے۔امریکا کلی اور دیگر مغربی ممالک جزوی طور پر قول و فعل کے تضاد کے ساتھ اس حکمتِ عملی کے ساجھے دار ہیں۔

اسرائیل کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ غزہ کو خالی کرانے کا منصوبہ آرام سے مکمل کرے۔صدر ٹرمپ کے مشیرِ خاص سٹیو وٹکوف نے اشارتاً کہا ہے کہ غزہ میں دسمبر تک حالات معمول پر آ جائیں گے۔اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کے پاس ابھی کم ازکم ڈھائی مہینے ہیں کہ وہ غزہ کے تمام رہائشی مار یا نکال کے نسلی صفائی کا مشترکہ ٹرمپ نیتن یاہو منصوبہ مکمل کر لے۔

فورنزک آرکیٹیکچر کی تازہ رپورٹ میں مصنوعی قحط کے پیٹرن کو جانچنے کے لیے جیو لوکیشنز ، مصدقہ وڈیوز اور سیٹلائیٹ تصاویر سے مدد لی گئی۔اس مواد سے ثابت ہو رہا ہے کہ کس طرح غذائی امداد انسانوں کو زندہ رکھنے کے بجائے موت کا پھندہ بنا دی گئی ہے۔امداد کی ترسیل و تقسیم تجربہ کار بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کے بجائے اسرائیلی فوج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

اس حکمتِ عملی پر اس سال کے شروع سے مرحلہ وار عمل ہو رہا ہے۔جنوری میں فلسطینیوں کی دیکھ بھال کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انرا کو ایک کالعدم دھشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کے امدادی مراکز اور گوداموں کو تباہ کیا گیا۔اس کے دو ماہ بعد اسرائیل نے غذائی امداد مکمل طور پر روک دی۔

اگلے تین ماہ میں جب بین الاقوامی رائے عامہ اسرائیل کی اس غیرقانونی حرکت کے خلاف ہونی شروع ہوئی تو امریکا کی مدد سے ایک امدادی ادارہ غزہ ہومینیٹیرین فاؤنڈیشن ( جی ایچ ایف ) ایجاد کیا گیا اور امداد کی تقسیم کے لیے چار مراکز یا ’’ چوہے دان ‘‘ قائم کیے گئے جو سب کے سب ان زونز میں ہیں۔ان پر مکمل فوجی کنٹرول ہے اور ان وار زونز میں کسی سویلین کا قدم رکھنا موت کی وادی میں پھنسنے جیسا ہے۔

سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے پہلے غزہ کی بائیس لاکھ آبادی کے لیے بین الاقوامی امدادی اداروں نے چار سو امدادی مرکز قائم کر رکھے تھے۔ ان مراکز کو کسی مسلح تحفظ کی ضرورت نہیں تھی۔مگر جی ایچ ایف کے صرف چار مراکز کی حفاظت جدید ترین فوجی گریڈ کے ہتھیاروں سے مسلح پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کے حوالے کی گئی ہے۔انھیں کم ازکم گیارہ سو ڈالر روزانہ دھاڑی ملتی ہے۔

چاروں امدای مراکز جنوبی غزہ میں بنائے گئے ہیں تاکہ شمالی غزہ کے رہائشیوں کو جنوب میں منتقل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔ان امدادی مراکز کے کھلنے اور بند ہونے کا کوئی نظام الاوقات نہیں۔اکثر ایک گھنٹے پہلے ہی کھلنے کا اعلان ہوتا ہے اور کبھی کبھی امداد کی تقسیم شروع ہونے کے دس منٹ بعد بند کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ اکثر بے حال خاندان امداد کی آس میں قریبی علاقوں میں ڈیرہ ڈالنے پر مجبور ہیں۔

انتہائی ہجوم میں سے روزانہ جن چند سو خوش قسمتوں کو ان امدادی مراکز میں داخلے کا موقع مل جاتا ہے وہ بھول بھلیاں انداز کے بنے اونچی باڑھ والے تنگ کاریڈورز میں مویشیوں کی طرح ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔مقصد بھی یہی ہے کہ فلسطینیوں کی عزتِ نفس کو مکمل طور پر کچل کے انھیں باور کرایا جائے کہ وہ انسان نہیں بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے والے مویشی ہیں۔

ان تقسیمی مراکز میں سائے ، پینے کے پانی ، بیت الخلا یا ایمرجنسی طبی مدد کی کوئی سہولت نہیں۔خوراک کے ڈبے میں خشک راشن ہوتا ہے۔ سبزی ، گوشت ، پھل یا چھوٹے بچوں کے لیے خشک دودھ کا سوال ہی نہیں۔کھانا پکانے کے لیے پانی کی بوتل ، کوکنگ آئیل وغیرہ تو بھول ہی جائیں۔

مرکز کی حفاظت پر مامور نجی محافظ اور آس پاس منڈلاتے اسرائیلی فوجی بھگدڑ کنٹرول کرنے کے لیے لاٹھی یا آنسو گیس وغیرہ کے استعمال پر یقین نہیں رکھتے بلکہ سیدھی گولیاں چلاتے ہیں اور امداد کے لیے آنے والے زخمی پتنگوں کی طرح ایک دوسرے پر گرتے ہیں یا بھاگتے ہجوم کے پاؤں تلے کچلے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر فلسطینی کسی بھی امدادی مرکز تک پہنچنے کے لیے ڈھائی سے دس کیلومیٹر کا فاصلہ کہ جس کا اوسط چھ کیلومیٹر بنتا ہے طے کرتا ہے۔گویا آنے جانے کا مطلب اوسطاً بارہ کیلومیٹر کا سفر ہے۔بہت سے لوگ یہاں تک زندہ پہنچ تو جاتے ہیں مگر لاشوں یا زخمیوں کی صورت میں واپس لے جائے جاتے ہیں۔

کوئی دن نہیں جاتا جب خونی ڈرامہ نہ ہوتا ہو۔بھگدڑ نہ بھی ہو تو فائرنگ کر کے اس کا سماں پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسانوں کا تاک تاک کے شکار شروع ہو جاتا ہے۔ستائیس مئی سے یکم اگست تک ان امدادی مراکز کے آس پاس ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ لاشیں گر چکی ہیں۔صرف جولائی میں امداد کے متلاشی سات سو تیس انسان گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

فورنزک رپورٹ کے مطابق اٹھارہ مارچ تا یکم اگست غزہ کے لاکھوں لوگوں کو اٹھاون بار ایک جگہ سے دوسری جگہ جبری نقل مکانی کرنا پڑی۔ امدادی مراکز پر یا ان کے قریب خوراک کی تلاش میں آنے والوں پر چونسٹھ حملے ہوئے۔سینتیس بار امدادی رسد کو اسرائیلی حمائیت یافتہ مسلح مقامی گروہوں نے لوٹا۔

ویسے غزہ کے لوگ عملاً دو ہزار سات سے ہی اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب نیم جاں ہیں۔اسرائیل سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے پہلے بھی غزہ میں بس اتنی خوراک جانے کی اجازت دیتا تھا جو فی کس انسانی جسم کی کم ازکم غذائی ضرورت پوری کر سکے۔حتی کہ اسرائیل سے آنے والی بجلی کی بھی سخت راشننگ تھی۔ چنانچہ دو ہزار اٹھارہ میں ہی اقوامِ متحدہ نے خبردار کر دیا تھا کہ غزہ میں نارمل زندگی روز بروز ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔

اسرائیل نے اس خطے کو بھوک کے عفریت کے جبڑوں میں دینے کے لیے گزشتہ بائیس ماہ میں ایک ایک کھیت ، باغ اور درخت تباہ کر دیا یا بلڈوزر سے کچل دیا۔ماہی گیری پر بھی پابندی ہے تاکہ مقامی لوگ بھوک کا حصار سمندری غذا کے ذریعے نہ توڑ سکیں۔

حالانکہ خوراک سے لدے سیکڑوں ٹرک سرحد پار مصری علاقے میں موجود ہیں۔انھیں اندر آنے کی اجازت دینے کے بجائے ایک سے ایک ٹوپی ڈرامہ جاری ہے۔امریکی بحریہ نے گزشتہ برس سمندر کے راستے امداد پہنچانے کے لیے لاکھوں ڈالر کے صرفے سے ایک تیرتی ہوئی جیٹی بنائی مگر سمندر کی لہریں اسے بہا لے گئیں۔

 کئی ممالک فضا سے امداد گرانے کا ناٹک کرتے رہتے ہیں۔مگر نوے فیصد رسد یا تو فوجی کارروائی کے زونز میں گرتی ہے یا پھر سمندر میں۔کبھی کبھی انسان بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔اب تک اس ڈرامے کے سبب کم ازکم چار ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور سیکڑوں بھوکے لوگ اس امداد کے تعاقب اور چھینا جھپٹی میں زخمی ہو چکے ہیں۔مگر یہ فضائی ڈرامہ بھی بھوکی آبادی کے ایک فیصد کا پیٹ بھی نہیں بھر پایا۔

بالاخر خدا خدا کر کے اقوامِ متحدہ نے بائیس اگست کو باضابطہ اعلان کیا کہ غزہ مکمل قحط کی لپیٹ میں ہے۔ستمبر کے آخر تک یہ قحط پوری پٹی کو لپیٹ میں لے لے گا۔یعنی حالات جوں کے توں رہے تو ستمبر کے بعد سے روزانہ اموات کی تعداد سیکڑوں اور پھر ہزاروں میں پہنچے گی۔مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور بوڑھوں کی ہو گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امدادی مراکز امداد کی جاتے ہیں جاتا ہے غزہ کے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان