امریکی ٹیرف کے اثرات، بھارتی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بھارتی روپیہ پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی کم ترین سطح پر بند ہوا، انٹربینک مارکیٹ میں ایک پیسہ کمی کے ساتھ 88 روپے 10 پیسے پر ٹریڈ کیا، یہ گراوٹ بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی محصولات کے خدشات اور درآمدکنندگان کی جانب سے ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سامنے آئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی روپیہ کے لیے دن کا آغاز 88.
یہ بھی پڑھیں: بھارت: امریکی ٹیرف کے بعد جے پور کی جیولری برآمدات بند، صنعت بحران سے دوچار
شیئر مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، سینسیکس 554.84 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 80,364.49 پر بند ہوا جبکہ نفٹی 198.20 پوائنٹس بڑھ کر 24,625.05 تک پہنچ گیا۔
کرنسی اینڈ کموڈیٹیز کے ماہرین کے مطابق، روپیہ اپنی کم ترین سطح سے مقامی مارکیٹ کی مضبوطی کے باعث کچھ بہتر ہوا، تاہم امریکی محصولات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کی وجہ سے دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف کا خوف، بھارتی حکومت نے ٹرمپ سے جڑی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں
اعدادوشمار کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پیر کے روز 1,429.71 کروڑ روپے مالیت کے شیئرز فروخت کیے، اس دوران ڈالر انڈیکس 0.14 فیصد کمی کے ساتھ 97.63 پر آگیا، جس نے روپے کو کچھ سہارا دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی ڈالر کو مزید کمزور کر سکتی ہے، بھارتی ریزرو بینک کے مطابق، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 4.386 ارب ڈالر کمی کے بعد 690.72 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہ ذخائر 1.488 ارب ڈالر بڑھے تھے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں آئی فون بنائے تو 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کردیا
بھارت میں معاشی محاذ پر ایک مثبت پیش رفت یہ رہی کہ ایچ ایس بی سی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس جولائی کے 59.1 سے بڑھ کر اگست میں 59.3 پر آگیا، جو گزشتہ 17 سالوں میں سب سے زیادہ بہتری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ٹیرف امریکی ڈالر انٹربینک مارکیٹ بھارت بھارتی کرنسی تجارتی محصولات روپیہ ریزرو بینک کم ترین سطح
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی ٹیرف امریکی ڈالر انٹربینک مارکیٹ بھارت بھارتی کرنسی تجارتی محصولات روپیہ امریکی ٹیرف کے مطابق
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔