Express News:
2026-06-03@06:19:55 GMT
اسلام آباد: سفاک بیوی نے آشنا کے ساتھ ملکر شوہر کو قتل کردیا، ملزمہ ساتھی سمیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
اسلام آباد تھانہ سمبل اور ہومی سائیڈ یونٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شوہر کو آشنا سے مل کر قتل کرنے والی سفاک ملزمہ سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس نے قتل میں ملوث ملزمان مسماۃ شاہین بی بی عرف مسکان اور عابد علی کو گرفتار کرلیا، ملزمان نے تھانہ سمبل کی حدود میں تیز دھار آلہ سے وار کرکے تنویر انجم کو قتل کر دیا تھا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد نے وقوعہ کا نوٹس لے کر مجرمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے تھے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے کہا کہ ملزمان کو ٹھوس شواہد کی روشنی میں چالان عدالت کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔