کالا باغ ڈیم بن بھی جائے تو سیلاب نہیں رکیں گے، شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ اگر کسی معجزے کے تحت کالا باغ ڈیم بن بھی گیا تو ملک میں سیلاب پھر بھی آتے رہیں گے۔
نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے صوبے نے ہمیشہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی ہے۔ اگر وہ اس حوالے سے کوئی پیشرفت چاہتے ہیں تو ڈیم سے متعلق اجلاس میں شریک ہوں۔ ان کے صوبے نے پہلے ہی اس منصوبے کو مسترد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ماحولیاتی تبدیلیاں آتی ہیں تو صرف ڈیم بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ملک کے تینوں بڑے دریا سب کے سامنے ہیں، کالا باغ ڈیم کی جگہ بھی سب جانتے ہیں۔ آج پنجاب سیلاب کی لپیٹ میں ہے، ڈیم پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن یہ سیلاب کو روکنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کبھی چترال، سوات اور مالاکنڈ سرسبز و شاداب علاقے تھے لیکن اب وہ اپنی سبز پوشی کھو چکے ہیں۔ سیلاب کے خطرے میں کمی کے لیے اصل توجہ آبی گزرگاہوں کے اطراف تجاوزات ختم کرنے پر دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میں کمیٹی میں اس معاملے کو اٹھاؤں گی تاکہ اس پر سنجیدگی سے غور ہو سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اب بڑے ڈیم بنانا ممکن نہیں، اس سے پہلے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ تربیلا اور منگلا جیسے منصوبے کس طرح بنے تھے۔ سیلاب آتے رہیں گے اور کوئی ڈیم انہیں روک نہیں سکتا۔ سب سے زیادہ سبزہ زار اور ماحولیاتی تحفظ والا خطہ کبھی خیبر پختونخوا تھا اور کسی حد تک گلگت بلتستان بھی، مگر اب یہ خطے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کالا باغ ڈیم نے کہا
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔