وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نئے صوبوں،صدارتی نظام کی حمایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کالا باغ ڈیم کے بعد ملک میں صدارتی نظام کی حمایت کر دی
سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صرف اے این پی کو کالا باغ ڈیم سے اختلاف ہے،جو لوگ کہتے ہیں ہماری لاشوں پر کالا باغ ڈیم بنے گا وہ سیاست کر رہے ہیں۔
سیاست پر ریاست کو ترجیح دینے کا حامی ہوں ،پیپلز پارٹی اب ڈائیلاگ اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتی،کالاباغ ڈیم سے سندھ اور اے این پی کو مسئلہ ہے ،منگلا ڈیم پر لوگوں کو متبادل جگہ دی گئی۔
سب کے تحفظات دور کرکے کالاباغ ڈیم بننا چاہئے ،میری پارٹی کے لوگ بھی کالاباغ ڈیم پر سیاست کر رہے ہیں ،وزیراعظم کی زیرصدارت آبی ذخائر کی تعمیر سے متعلق ایک میٹنگ ہوئی تھی ،مشورہ دیا تھا کالاباغ ڈیم ریڑھ کی ہڈی ہے ،اس کو کیوں بھولے ہیں۔
این ایف سی کا بوجھ بھی صوبوں کو دیں ،مشورہ دیا کہ بی آئی ایس پی کا منصوبہ صوبوں کو دیں،اس سے کوئی پاؤں پر کھڑا نہیں ہو رہا ، لوگ بڑھتے جارہے ہیں،چاہتا ہوں کہ ایک گھرانے کو 5لاکھ روپے دیں تاکہ وہ کاروبار شروع کرسکیں۔
علی امین گنڈا پور نے ملک میں صدارتی نظام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت کے تحت ملک میں صدارتی نظام ہو نا چاہیے،نئے صوبوں کی بھی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبے ہوں گے تو گورننس بہترین ہو گی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان واحد ملک ہے جو اتنی بڑی آبادی کیساتھ 4 صوبوں پر چل رہا ہے،سابق گورنرغلام علی میرا سیاسی مخالف تھا لیکن ایک گورنر کی طرح برتاؤ کرتا تھا،گورنر فیصل کریم کنڈی اب بھی پارٹی کے انفارمیشن سیکریٹری لگتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کو سمجھایا تھا کہ ایسا مت کریں لیکن وہ سمجھ نہیں رہے،گورنر ہاؤس صوبائی حکومت کا ہے،وہ گورنر ہاؤس میں میری وجہ سے بیٹھے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صدارتی نظام کالاباغ ڈیم حمایت کر
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔