بی این پی جلسے پر دہشت گرد حملے کی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
کوئٹہ:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں بلوچ نیشنل پارٹی (مینگل) کے جلسے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حکومت بلوچستان اس دہشت گرد حملے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی اور انصاف ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔
شاہوانی سٹیڈیم میں بی این پی مینگل کے سیاسی جلسہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ حکومتِ بلوچستان اس واقعے کے ذمہ دار دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر چھوڑے گی۔ میں سردار اختر جان مینگل اور ان کے سیاسی کارکنوں سے ذاتی طور پر تعزیت کرتا ہوں اور مرحومین…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) September 2, 2025انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سردار اختر جان مینگل اور بی این پی مینگل کے کارکنوں سے ذاتی طور پر تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ مرحومین کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گرد حملے وزیر اعلی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔