وفاقی بورڈ آف ریونیو نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2025 سے آن لائن مارکیٹ پلیسز اور کوریئر سروسز کسی بھی غیر رجسٹرڈ سیلر کو اپنی خدمات فراہم نہیں کر سکیں گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری نئے انکم ٹیکس سرکلر میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہر سیلر کے لیے انکم ٹیکس میں رجسٹریشن لازمی ہوگی۔

اس کے ساتھ ہی آن لائن مارکیٹ پلیس اور کوریئر سروسز پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ سیلرز کو اپنی سہولیات فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان میں چینی ای کامرس پلیٹ فارم ٹیمو پر پابندی لگے گی؟

مزید برآں، آن لائن مارکیٹ پلیسز پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم استعمال کرنے والے وینڈرز کی تفصیلات ایف بی آر کو جمع کرائیں۔

ایف بی آر کے مطابق پاکستان کی ریٹیل مارکیٹ میں بدلتے رجحانات اور بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ آن لائن سیلرز کے موجود ہونے کی وجہ سے یہ نیا فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔

جس کے تحت سیلرز کو نیشنل ٹیکس نمبر فراہم کیا جائے گا اور ہر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: آن لائن خرید و فروخت پاکستانی معیشت کے لیے کس طرح کار آمد ہو سکتی ہے؟

ای کامرس پر ٹیکس کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس میں نیا سیکشن 6A شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق آن لائن پلیٹ فارم یا ویب سائٹ کے ذریعے حاصل ہونے والی ہر ادائیگی پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

اس مقصد کے لیے سیکشن 153(2A)  میں تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت بینک، مالیاتی ادارے، ایکسچینج ڈیلرز، پیمنٹ گیٹ ویز اور کیش آن ڈلیوری میں شامل کوریئرز کو ودہولڈنگ ٹیکس جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔

آن لائن ادائیگیوں پر 1 فیصد اور کیش آن ڈیلیوری پر 2 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وائس آف کسٹمرز۔۔۔ “کوالٹی اور رنگ ملاحظہ فرمائیں”۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر کم شرح ٹیکس رکھنے کا مقصد ملک کو کیش لیس اکانومی کی جانب منتقل کرنا ہے۔

اس اسکیم کے تحت وصول کیا گیا ٹیکس سیلرز کی ای کامرس آمدنی، مقامی اور برآمدات دونوں، پر فائنل ٹیکس تصور ہوگا۔ البتہ سیکشن 154 اور 154A  کے تحت کی جانے والی کٹوتیاں اس دائرے میں شامل نہیں ہوں گی۔

مزید یہ کہ پیمنٹ انٹرمیڈیری اور کوریئرز پر لازم ہے کہ وہ ہر سیلر کے نام پر ٹیکس وصول کریں، اسے ماہانہ بنیاد پر خزانے میں جمع کرائیں اور مقررہ ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹس بھی جمع کروائیں۔ عدم تعمیل کی صورت میں آن لائن مارکیٹ پلیسز اور کوریئر کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: آن لائن لوکل برانڈز خواتین میں کیوں مشہور ہو رہے ہیں؟

ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ آن لائن ادائیگی کی صورت میں متعلقہ بینک کو ٹیکس وصولی کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔

کیش آن ڈلیوری پر ادائیگی کی صورت میں کوریئر سروس ٹیکس جمع کرانے اور دیگر قانونی ذمہ داریوں کی پابند ہوگی۔

اگر سامان آن لائن مارکیٹ پلیس کے ذریعے بیچا جائے اور ادائیگی آن لائن ہو تو اس صورت میں آن لائن مارکیٹ پلیسز کا بینک یا مالیاتی ادارہ ٹیکس وصول کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آن لائن مارکیٹ پلیس انکم ٹیکس ای کامرس ایف بی آر بورڈ آف ریونیو ٹیکس ریٹیل مارکیٹ کوریئر سروسز کیش آن ڈیلیوری کیش لیس اکانومی ودہولڈنگ ودہولڈنگ ٹیکس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ای کامرس ایف بی ا ر بورڈ آف ریونیو ٹیکس کوریئر سروسز کیش آن ڈیلیوری کیش لیس اکانومی ودہولڈنگ ودہولڈنگ ٹیکس اور کوریئر ٹیکس وصول انکم ٹیکس ایف بی آر پر ٹیکس گیا ہے کے تحت کیش آن کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ