اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی فل کورٹ میٹنگ: اسٹیبلشمنٹ سروس رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ سروس رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ڈسکشن کے بغیر اکثریتی رائے سے منظور کر لیے گئے۔
11 میں سے 5 ججز نے رولز کے خلاف جبکہ 6 ججز نے منظوری کے حق میں ووٹ دیا۔ جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی بلڈنگ کے نقائص پر تحقیقات، انکوائری یا کارروائی کرنے کا معاملہ فل کورٹ کی متفقہ منظوری سے حکومت کو بھجوا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کا حکم
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی صدارت میں فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں تمام 11 ججز شریک ہوئے، اور یہ اجلاس صرف 35 منٹ جاری رہا۔
ایک جج کی جانب سے رولز پر ڈسکشن اور مشاورت کے لیے فل کورٹ میٹنگ کچھ دن کے لیے مؤخر کرنے کی استدعا کی گئی جسے مسترد کر دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز بغیر ڈسکشن اکثریتی رائے سے منظور کیے گئے۔ 11 میں سے 6 ججز نے رولز کی منظور کے حق میں جبکہ 5 ججز نے رولز منظور کرنے کے خلاف ووٹ دیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے رولز کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا جبکہ سینیئر پیونی جج جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے رولز منظور کرنے کی مخالفت کی۔
فل کورٹ میٹنگ کے ایجنڈے میں ترمیم کا 2 ججز کا خط میں کیا گیا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔ جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے میٹنگ ایجنڈے میں تبدیلی سے متعلق خطوط زیر بحث نہیں آئے۔
فل کورٹ میٹنگ کے دوران سروس رولز میں ترمیم کا ابتدائی ڈرافٹ مبینہ طور پر گم ہونے کا انکشاف ہوا۔ رولز میں ترمیم سے متعلق ابتدائی ڈرافٹ گم ہونے کا معاملہ بھی میٹنگ میں اٹھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے اور ٹرانسفر ججوں کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد
فل کورٹ اجلاس میں تمام ججز نے پہلے 2 ایجنڈا آئٹمز کی متفقہ طور پر منظوری دی جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی بلڈنگ کے نقائص کا معاملہ حکومت کو بھجوانا اور فیملی کورٹ کے ججز کے اختیارات کے حوالے سے فیصلے شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس رولز منظور فل کورٹ میٹنگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ چیف جسٹس رولز منظور فل کورٹ میٹنگ وی نیوز اسلام ا باد ہائیکورٹ فل کورٹ میٹنگ رولز منظور اسلام آباد نے رولز کورٹ کے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔