چین کا DF-5C میزائل کی رونمائی؛ دنیا کے کسی بھی کونے کو نشانہ بناسکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
چین نے بیجنگ میں منعقدہ شاندار فوجی پریڈ کے دوران اپنا جدید ترین بین البراعظمی میزائل DF-5C کی رونمائی کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حیرت انگیز میزائل کی خصوصیات ناقابل یقین ہیں جو ماہرین کے بقول دنیا کے کسی بھی ملک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین کے اس میزائل کی رینج 12 ہزار سے 20 ہزار کلومیٹر تک ہوسکتی ہے یعنی یہ میزائل بیک وقت امریکا اور یورپ سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
چین کا یہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) دراصل Liquid-fuel سائلوز سے لانچ کیا جاتا ہے اور یہ بیک وقت متعدد جوہری وارہیڈز (MIRVs) لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
چینی ماہرین کے بقول میزائل DF-5C کسی ملک کے میزائل شکن دفاعی فضائی نظام کو چکمہ دینے اور انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اس میزائل ساخت ایسی ہے کہ اسے 3 حصوں میں 3 مختلف گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے بقول میزائل کی ساخت کا مطلب یہ ہے کہ اسے لانچ کرنے کے لیے تیاری میں کم سے کم وقت لگے۔
خیال رہے کہ چین نے اس میزائل کی نمائش ایک ایسے وقت میں کی ہے جب خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چین کا صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ دنیا کو اپنی لازوال طاقت دکھانے کا بھرپور مظاہرہ بھی ہے۔
ادھر امریکی اور یورپی دفاعی ادارے اس میزائل کی رونمائی کو "ڈیٹرنس میسج" قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق چین اپنی جوہری صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں عالمی سطح پر توازن اپنے حق میں کر سکے۔
واضح رہے کہ DF-5 سیریز کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا تھا لیکن DF-5C اس کا جدید ترین ورژن ہے۔ یہ پرانے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ رینج اور زیادہ وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے انتہائی خطرناک بناتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میزائل کی کی صلاحیت
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔