ابھرتی ہوئی اداکارہ ماریہ ملک نے شوبز کی چمک دمک کے پیچھے تاریک چہرے کو بے نقاب کرکے رکھ دیا۔

ڈراما "الزامِ عشق” سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے والی نووارد اداکارہ ماریہ ملک نے اپنے کیریئر اور انڈسٹری کے تلخ تجربات کے بارے میں ایک انٹرویو میں بے باکی سے بات کی۔

ماریہ نے انٹرویو میں بتایا کہ میرے ساتھ کبھی ایسا کچھ غلط نہیں ہوا لیکن میں نے دوسروں کی ہولناک کردینے والی کہانیاں سنی ہیں۔

اداکارہ ماریہ ملک نے مزید کہا کہ  شو بز کی چمک دمک کے پیچھے کئی اندھیرے پہلو بھی چھپے ہیں، جنھیں سن کر دکھ ہوتا ہے۔

ماریہ ملک نے بتایا کہ شکر ہے میرے ساتھ کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے۔

اپنے کیریئر کے حوالے سے ماریہ نے کہا کہ نئے آنے والوں کو عموماً صرف سپورٹنگ رولز ہی آفر کیے جاتے ہیں۔ میں بھی ابتدا میں ایسے ہی کردار کرتی رہی۔

انھوں نے مزید کہا کہ بعد میں کچھ کرداروں کو ٹھکرا دیا کیونکہ لیڈ رول میں نظر آنا چاہتی تھی لیکن پروڈیوسرز کو "نہ” سننا برا لگتا ہے۔

البتہ اداکارہ نے اس بات کو بھی تسلم کیا کہ جب فنکار کو کامیابی ملنے لگتی ہے تو پھر وہی پروڈیوسرز وغیرہ اچھی طرح پیش آتے ہیں۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود