5 ہزار تنخواہ پیشہ ورانہ سفر شروع کرنے والا پروف ریڈر، 1 کروڑ کی بچت تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
بھارتی ریاست بینگلورو کے محض میٹرک پاس ایک پروف ریڈر نے ثابت قدمی اور صبر سے 25 برسوں میں ایک کروڑ روپے کی بچت کر کے مثال قائم کردی ہے، ان کی کہانی ریڈٹ پر وائرل ہوئی، جہاں ہزاروں صارفین نے ان کی سادگی اور مالی نظم و ضبط کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پروف ریڈر نے سن 2000 میں صرف 5 ہزار روپے کے ساتھ عملی زندگی کا آغاز کیا اور ابتدائی تنخواہ 4,200 روپے تھی، جو وقت کے ساتھ محنت اور مستقل مزاجی سے بڑھ کر 63 ہزار تک جا پہنچی۔ انہوں نے زندگی بھر سادہ طرزِ زندگی اپنایا، گھر یا گاڑی خریدنے کے بجائے کرایے پر رہائش اختیار کی اور خرچ کے بجائے بچت کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں: چند کروڑ بچانے کی خاطر 5 ادبی و علمی اداروں کے خاتمے کا منصوبہ
انہوں نے اپنی بچت فکسڈ ڈپازٹ اور ری کرنگ ڈپازٹ میں جمع کرائی اور قرض لینے یا فضول اخراجات سے گریز کیا۔ اب 48 برس کی عمر میں ان کی کل جمع پونجی ایک کروڑ روپے سے زائد ہوچکی ہے، جو ان کے اہلخانہ کے مستقبل کے لیے بڑی ضمانت ہے۔
Reached a (major) milestone — 1 Crore, took me 25 years
byu/srikavig inpersonalfinanceindia
ریڈٹ پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ یہ سفر تیز تر ترقی یا شارٹ کٹ کے بجائے صبر اور مستقل مزاجی پر مبنی تھا۔ ان نے کہا ’ہم نے کبھی عیش و عشرت کو ترجیح نہیں دی، نہ ہی کار یا نیا گھر خریدا۔ دیہات میں ہمارا آبائی مکان ہے جہاں بڑھاپے کے دن گزاریں گے۔ صبر، صحت اور وقت انسان کے سب سے بڑے اثاثے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں:معیار کو کامیابی کا زینہ بنانے والی سپر اسٹار یمنیٰ زیدی کی کہانی
اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے ان کی مثال سے حوصلہ پایا۔ کئی صارفین نے کہا کہ ایسے دور میں جب اکثر لوگ فوری کامیابی کے پیچھے بھاگتے ہیں، یہ کہانی مستقل مزاجی اور سادگی کی بہترین مثال ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ اگر یہی ڈسپلن جدید سرمایہ کاری جیسے میوچل فنڈز پر اپنایا جائے تو نتائج اور بھی جلد حاصل ہو سکتے ہیں۔
صارفین نے کرایے پر رہنے کو خریدنے سے بہتر قرار دینے پر بھی بحث کی اور اسے مالی لچک کے لیے مثبت فیصلہ کہا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا:
’یہ پوسٹ نئی ہوا کا جھونکا ہے۔ ایسے وقت میں جب ہماری نسل خواہشات اور ضرورتوں میں فرق بھلا بیٹھی ہے، آپ کی کہانی نے اصل راستہ دکھایا ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت بینگلورو پروف ریڈر ریاست.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بینگلورو پروف ریڈر ریاست پروف ریڈر
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو 100 میں سے تقریباً 90 لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ ٹینکی بھی کبھی فل کرائی تھی۔
گاڑی میں سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
کچھ موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔
یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔
اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔
بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔
اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔