2026 ورلڈ کپ ٹکٹس کی فروخت کا آغاز، کیا قیمتیں مقرر کی گئیں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اعلان کیا ہے کہ 2026 ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی فروخت رواں ماہ کے آخر سے شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ نے دسمبر میں فیفا ورلڈ کپ ڈرا کا اعلان کردیا
ابتدائی مرحلے میں ایک ملین ٹکٹس جاری کیے جائیں گے، جن کی قیمتیں 60 ڈالر سے لے کر 6,730 ڈالر تک رکھی گئی ہیں۔
سب سے سستا اور سب سے مہنگا ٹکٹفیفا کے مطابق گروپ اسٹیج میچز کے لیے کیٹیگری فور ٹکٹ کی کم سے کم قیمت 60 ڈالر ہوگی، جبکہ ورلڈ کپ فائنل کے لیے کیٹیگری ون ٹکٹ کی زیادہ سے زیادہ قیمت 6,730 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
تاہم ’ڈائنامک پرائسنگ‘ کے تحت طلب کے مطابق یہ قیمتیں اوپر نیچے ہو سکتی ہیں۔
ڈائنامک پرائسنگ پر بحثٹکٹوں کی ڈائنامک پرائسنگ اس سے قبل رواں سال امریکا میں کلب ورلڈ کپ کے دوران بھی زیر بحث رہی، جہاں کئی میچز کے ٹکٹس آخری وقت میں کم قیمت پر دستیاب ہوئے۔
FIFA set to kick off 2026 World Cup ticket sales
48 teams will play in the United States, Canada and Mexico from June 11-July 19 next yearhttps://t.
— Gulf News (@gulf_news) September 3, 2025
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہائمو شیرگی نے کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد آمدنی کو بہتر بنانا ہے لیکن ساتھ ہی اسٹیڈیمز کو بھرنا بھی ضروری ہے۔ یہ ہمیشہ مختلف عوامل کے درمیان توازن کا معاملہ ہوتا ہے۔
فیفا نے بتایا کہ پری سیل 10 سے 19 ستمبر تک جاری رہے گی، جبکہ کامیاب امیدوار یکم اکتوبر سے 21 اکتوبر تک اپنے مختص وقت کے اندر ٹکٹ خرید سکیں گے۔
اگلا مرحلہ نومبر میں ہوگا اور پھر ورلڈ کپ ڈرا کے بعد دسمبر 5 کو مزید ٹکٹس جاری کیے جائیں گے۔
میزبان ٹیموں کے میچز امریکا (گروپ ڈی) اپنے میچز لاس اینجلس (12 جون اور 25 جون 2026) اور سیئٹل (19 جون 2026) میں کھیلے گا۔ میکسیکو (گروپ اے) افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو سٹی میں کھیلے گا، اس کے بعد 18 جون کو گواڈالاجارا اور 24 جون کو دوبارہ میکسیکو سٹی میں میدان میں اترے گا۔ کینیڈا (گروپ بی) ٹورنٹو (12 جون) اور وینکوور (18 اور 24 جون) میں اپنے میچز کھیلے گا۔ فائنل کی میزبانیورلڈ کپ 2026 کا فائنل 19 جولائی کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹکٹس فٹبال ورلڈ کپ 2026 فٹبال ورلڈ کپ ٹکٹس فیفا فیفا ورلڈ کپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹکٹس فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا فیفا ورلڈ کپ ورلڈ کپ 2026
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔