آئی ایم ایف نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9خامیوں کی نشاندہی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
آئی ایم ایف نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9خامیوں کی نشاندہی کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9خامیوں کی نشاندہی کردی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان میں عوامی سرمایہ کاری کے نظام میں متعدد سنگین خامیاں ہیں، آئی ایم ایف نے مالی ڈسپلن یقینی بنانے کیلئے بجٹ کی مضبوط مانیٹرنگ پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملٹی ایئر بجٹ سازی محدود ہونے کی وجہ سے کرپشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف نے منصوبوں میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا سیاستدانوں کے منصوبے طریقہ کار سے ہٹ کر پی ایس ڈی پی میں شامل ہوئے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کرپشن اینڈ ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ جلد جاری ہونے کا امکان ہے، حکومت نے گورننس میں بہتری اور بدعنوانی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات سے آگاہ کر دیا۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گورننس میں بہتری، بدعنوانی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کیئے گئے، اقدامات میں ایف ایم یو کا قیام، سول افسران، بیوروکریسی کے اثاثوں کی ڈیکلئریشن شامل ہے، آئی ایم ایف کو ٹیکس ریونیو میں بہتری، کرپشن روکنے کیلئے اقدامات سے آگاہ کر دیا گیا۔
حکام نے غیر ملکی فنڈنگ والے اور زیر تکمیل منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ترجیح قرار دیدیا۔ 2518 ارب مالیت کے 344 سست رفتار منصوبے بند کیئے گئے، ہائی رسک منصوبوں میں شفافیت کیلئے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا عمل شروع کیا گیا۔وزارت منصوبہ بندی میں انٹیلی جنٹ پراجیکٹ آٹومیشن سسٹم متعارف کرایا گیا، آئی ایم ایف نے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات طے نہ کرنے کی نشاندہی کی، وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، ایف بی آر سمیت اسٹیک ہولڈرز نے پیش رفت سے آگاہ کردیا۔ آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان کے دوران مجوزہ رپورٹ پرمزید بات چیت متوقع ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرججز نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا،جو تباہی ہمارے ہاتھوں ہوئی ہمیں تسلیم کرنا چاہئے، جسٹس اطہرمن اللہ ججز نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا،جو تباہی ہمارے ہاتھوں ہوئی ہمیں تسلیم کرنا چاہئے، جسٹس اطہرمن اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ، مختلف سیکٹرز میں پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا سی ڈی اے کا آرڈر معطل، نوٹس جاری جناح ہاؤس حملہ کیس: علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کی بھی ضمانت منظور فلسطینی چیف جسٹس اور امام مسجد اقصیٰ کی پاکستان آمد، وفاقی وزیر مذہبی امور سے ملاقات شیر افضل مروت کس کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے؟ علیمہ خان نے الزامات کا پنڈورا کھول دیا سستا آٹا فراہم کرنے سے فلور ملوں کے انکار پر حکومت کا ردعمل سامنے آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے پاکستان کے کی نشاندہی
پڑھیں:
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کیلئے باعث فخر ہے، کرغزستان نےاجلاس کی بہترین میزبانی کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اب معیشت، ثقافت اور امن کا جامع فورم بن چکی ہے، ایس سی او خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی و تعمیری سفارتکاری کی بنیاد ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کے شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے، 560 پاکستانی شہید ہوئے، افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے پر زور دے۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔ انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور خطے و عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ اسلام آباد ایم او یو اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازع کے مستقل، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان عناصر کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو الٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہو گا۔