ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر، چیئرمین ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ، نے ہینگن میں ’مشن پاکستان‘ کے پانچویں اجلاس میں شرکت کی اور مقامی قیادت اور کمیونٹی نمائندگان سے اہم ملاقاتیں کیں۔

اجلاس کا مقصد پاکستان اور جرمنی کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور پاکستان کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

اجلاس میں ٹیمو شیشانوسکی، سابق رکن جرمن پارلیمنٹ اور ہیگن کے میئر امیدوار تھامس کوہلر، حسنپے کے چیئرمین ہورسٹ وائسوکی، ہیگن شہری پارلیمنٹ کے پارلیمانی سربراہ کلاوس رڈل اور رالف ٹرنگ، گیولسنبرگ کے پارلیمنٹ ارکان سمیت دیگر معزز مہمان موجود تھے۔

مزید پڑھیں:  برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر پابندیوں کے لیے سلامتی کونسل کو خط لکھ دیا

ڈاکٹر لوہسر نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور انسانی ہمدردی کی صورتحال سے اجلاس میں شرکا کو آگاہ کیا۔ ہیگن قیادت نے پاکستان کی موجودہ مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا اور پاکستانی عوام کے لیے اپنی ہمدردی کا پیغام دیا۔

ہیگن کے کونسلر عرفان مجید ڈیورنہ، ورلڈ اسلامک مشن کے صدر اور حاجی قمر نے بھی اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ ڈاکٹر لوہسر نے پاکستان اور جرمنی کے مابین مضبوط تعلقات، یورپی یونین کے ساتھ تعاون، اور جرمنی کی جانب سے پاکستان کو GSP پلس درجہ دینے کے مثبت کردار کو سراہا۔

ڈاکٹر لوہسر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں کی سطح پر مزید باہمی دورے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے جرمنی میں ہونے والے عام انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کے بھرپور حصہ لینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر لوہسر نے ہیگن قیادت کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا اور جلد دورہ کرنے کا وعدہ کیا۔

یہ اجلاس پاکستان اور جرمنی کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے، بحرانی حالات میں حمایت جاری رکھنے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’مشن پاکستان‘ پاک جرمنی تعلقات جرمنی ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مشن پاکستان پاک جرمنی تعلقات پاکستان اور جرمنی کے اجلاس میں تعلقات کو کے لیے

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ